86

جدید سپورٹس اکیڈمی اب وہاڑی میں

آج کے ٹیکنالوجی جدید دور میں بچے ویڈیو گیمز، انٹرنیٹ، کیبل، ڈش، ٹی وی اور سمارٹ فونز کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں جس وجہ سے فزیکل کھیلوں کی سرگرمیاں کم ہوتی نظر آ رہی ہیں۔

وہاڑی کے ایک نوجوان نے بچوں کو فزیکل کھیلوں کی جانب راغب کرنے کے لیے ایک قدم اٹھایا جو آہستہ آہستہ سکلز اپ سپورٹس اکیڈمی کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

سکلز اپ سپورٹس اکیڈمی شرقی کالونی کی مین مارکیٹ میں واقع ہے جہاں 75 سے زائد بچے پانچ مختلف کھیلوں میں مہارت حاصل کر رہے ہیں۔

ایسی جدید سپورٹس اکیڈمیاں لاہور، کراچی یا اسلام آباد میں تو دیکھنے میں آتی ہے مگر وہاڑی میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی ایک مثال ہے جہاں سے اب تک 300 سے زائد بچے اور بچیاں سپورٹس ٹریننگ مکمل کر چکے ہیں۔

سکلز اپ سپورٹس اکیڈمی کے ڈائریکٹر نعمان انور نے سجاگ کو بتایا کہ انہیں سکول لائف میں جمناسٹک اور مارشل آرٹس میں حصہ لینے کا شوق تھا۔

انہوں نے بتایا کہ دوستوں کے ساتھ اپنی جمناسٹک کی پریکٹس کرنے کے لیے شرقی کالونی وہاڑی میں ایک ہال کرایہ پر لیا اور وہاں شام کے وقت پریکٹس شروع کر دی۔

“ہمیں پریکٹس کرتا دیکھ کر اردگرد کے لوگوں نے اپنے بچوں کو ہمارے پاس بھیجنا شروع کر دیا اور ان کے پریکٹس ہال نے اڑھائی سال قبل سپورٹس اکیڈمی کی شکل اختیار کر لی جس میں دن بدن بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔”

نعمان انور بتاتے ہیں کہ اس وقت ان کے پاس پانچ سال سے 18 سال تک کی عمر کے 75 سے زائد بچے اور بچیاں روزانہ ٹریننگ کے لیے آتے ہیں، اکیڈمی میں بچیوں کے لیے فی میل انسٹرکٹر اور بچوں کے لیے میل انسٹرکٹر کام کر رہے ہیں۔

اکیڈمی میں جمناسٹک، کراٹے، سکیٹنگ، تائیکوانڈو اور سوئمنگ کی کلاسز جاری ہیں جہاں بچوں کو ان کھیلوں کی پریکٹس کروائی جاتی ہے۔ لڑکوں کے لیے بوائز ہال، لڑکیوں کے لیے گرلز ہال اور خواتین کے لیے لیڈیز جم موجود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اکیڈمی میں ماہانہ کی بنیاد پر کھیلوں کے مقابلہ جات کروائے جاتے ہیں اور بیلٹ پرموشن ٹیسٹ ہوتے ہیں اس کے علاوہ سالانہ پروگرام میں نمایاں کاکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں انعامات، شیلڈز اور بیلٹ تقسیم کی جاتی ہیں۔

”اکیڈمی میں بچوں کے لیے سکیٹنگ شوز، میٹرس، سپرنگ بورڈ، جمناسٹک کا سامان، پنچنگ بیگ اور ہرڈلز ٹریننگ کا سامان موجود ہے۔”

ان کے مطابق اکیڈمی میں بچوں کا رسپانس بڑھ رہا ہے اس لیے اب مزید گیمز بھی کروائی جائیں گی جن میں ووشو، باکسنگ، یوگا، جم فٹنس اور سٹریٹ ورک آؤٹ شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اکیڈمی میں رجسٹرڈ ہونے والے بچوں کی ماہانہ فیس 800 روپے ہے جس کے بعد وہ اکیڈمی سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

اس وقت اکیڈمی کے پانچ سالہ بچے توصیف الرحمن لگاتار 200 بیک فلپس (الٹی قلابازیاں) لگا چکے ہیں جو اس عمر کے بچوں میں ایک ریکارڈ ہے۔

معروف ماہر تعلیم اور سماجی شخصیت مس صبوحی حسن کہتی ہیں کہ بچوں کو آؤٹ ڈور یا بیرونی سرگرمیوں کا عادی ہونا چاہیئے اس طرح ان کی ذہنی و جسمانی صلاحیت بڑھتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ والدین کو چاہیئے کہ وہ بچوں کی ان ڈور سرگرمیوں کو کم کر کے انہیں آؤٹ ڈور سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنے چاہیئں تاکہ بچوں کی ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ ہو اور وہ ڈپریشن سے بچ سکیں۔

”مغربی معاشرے میں بچوں کو سکولز اور کالجز میں ویڈیو گیمز کی بجائے کھیلوں میں دلچسپی پیدا کی جاتی ہے جس میں کسی نہ کسی سطح پر ذہنی آزمائش مطلوب ہوتی ہے۔”

انہوں نے بتایا کہ اس طرح کی سرگرمیوں سے بچوں کا آئی کیو لیول بڑھتا ہے اور وہ تعلیم کے میدان میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔

صبوحی حسن سمجھتی ہیں کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں والدین اپنے بچوں کو ویڈیو گیمز کا تحفہ بہت خوشی سے دیتے ہیں لیکن والدین اس بات سے ناواقف ہوتے ہیں کہ ان کی یہ محبت بچوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ ماہرین کے نزدیک ویڈیو گیمز بچوں کو ڈپریشن کا مرض میں مبتلا کرتیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں