اہم خبریں

مسکن

[vc_row][vc_column width=”1/1″]

[/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]
  1. بلدیاتی انتخابات میں ن لیگ کی ضلع بھر میں نمائیاں کامیابی ہیں ۔

    بلدیاتی انتخابات میں تحصیل میلسی میں توصیف احمد خان چئیرمین بلدیہ جبکہ مہر عبدالخالق وائس چئیرمین بلدیہ منتخب ہوئے ۔ وہاڑی ضلع کونسل کے چئیر مین کیلئے غلام محی الدین چشتی اور وائس چئیر مین عاصم سعید منیس اور رانا شاہد سرور کامیاب ہوئے جبکہ وہاڑی  بلدیہ سے شیخ محمد حسین لکی چئیرمین بلدیہاور سردار غلام مرتضی ڈوگر وائس چئیرمین کامیاب ہوئے
    جبکہ بورےوالا سے چوہدری عاشق ارائیں چئیرمین بلدیہ اور حاجی افتخار بھٹی وائس چئیرمین کامیاب ہوئے ۔
  2. میلسی سے کراچی جانے والی مسافر بس سکھر کے قریب سانگی میں تیز رفتاری کی وجہ سے بس الٹ گئی

    میلسی سے کراچی جانے والی مسافر بس سکھر کے قریب سانگی میں تیز رفتاری کی وجہ سے بس الٹ گئی ہے۔ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے ، جبکہ 18 افراد زخمی بھی ہیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد میں 3خواتین اور ایک بچی بھی شامل ہے۔ بس میں پھنسے مسافروں کو نکالنے کی کوشش جاری ہے، جس میں معتدد افراد شدید زخمی ہیں۔ ۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے، جبکہ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

  3. شہر میلسی کے مسائل اور ان کے حل کیلئے تجاویز

    شہر میلسی کے مسائل اور ان کے حل کیلئے تجاویز
  4. شہر میلسی کے مسائل اور ان کے حل کیلئے تجاویز

    شہر میلسی کے مسائل اور ان کے حل کیلئے تجاویز

Mailsi

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column width=”1/1″][product_category per_page=”12″ columns=”4″ category=”automotives”][/vc_column][/vc_row]

وہاڑی ضلع  کپاس کے حوالے سے مشہور ہے  ضلع وہاڑی کو سٹی آف کاٹن(کپاس کا شہر) کہا جاتا ہے.  وہاڑی کا موسم گرم ہوتا ہے تاہم اکتوبر اور مارچ کے دوران موسم ٹھنڈا اور خوشگوار رہتا ہے وہاڑی کی زرخیز زمین فصلوں کے لیے کافی مفید ہے وہاڑی میں کپاس اور گنے کی کئی فیکٹریاں موجود ہیں. وہاڑی میں موسم گرما میں آم کافی مقدار میں پیدا ہوتے اور موسم سرما میں امرود اور کینو کی پیداوار حاصل کی جاتی ہے

زراعت پاکستان کے لئے ایک جڑ کی حیثیت رکھتی ہے، ملک کی 60 فیصد سے زائد آبادی زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے۔ ملکی زرمبادلہ میں زراعت کا حصہ بائیس فیصد ہے۔ پاکستان میں پیدا ہونے والی کپاس، گندم، گنا اور چاول کی فصل بیرونی منڈیوںمیں خاص اہمیت رکھتی ہے اور ملک ان فصلوں کی بدولت قیمتی زرمبادلہ حاصل کرتا ہے۔ اس کے باوجود ملکی زرعی شعبے کی ترقی کی رفتار نہایت سست ہے۔ ہمارے مقابلے میں دنیا کے دیگر ملک زیادہ پیداوار دے رہے ہیں۔ اگر زرعی ترقی میں حائل رکاوٹوں پر غور کیا جائے تو کئی وجوہات سامنے آتی ہیں۔ہمارے کسان مہنگائی کے بوجھ تلے پھنسے جارہے ہیں، کھاد نہ صرف مہنگی ہو رہی ہے بلکہ کاشت کے دنوں میں ناپید ہو جاتی ہے، دیگر زرعی لوازمات بھی ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگے ہو رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں یوریا کھاد کی اوسط قیمت 1616 جبکہ ڈی اے پی کی اوسط قیمت 4046 روپے فی50 کلوگرام سے بھی زیادہ ہو گئی۔ ہماری حکومت نے زرعی ٹیکس اور دیگر کئی صورتوں میں زرعی اشیاءکو شدید مہنگا کر دیا ہے۔ غریب پہلے مہنگائی کی وجہ سے سبزی کھانے پر ترجیح دیتا تھا مگر اب وہ بھی مہنگائی کے باعث غریبوں کی پہنچ سے دور ہو رہی ہے۔ موجودہ حالات میں کسان کھیتی باڑی کی بجائے اپنی زرعی زمینیں فروخت کرکے شہروں میں منتقل ہو رہے ہیں۔ اگر یہی حالات رہے تو ملکی زرعی صورتحال مکمل طور پر ٹھپ ہو جائے گی۔ فصل کی کاشت کے دنوں میں کیمیائی کھادیں ہر علاقے میں مختلف نرخوں پر فروخت کی جاتی ہیں۔ کھاد ڈیلر فی بوری 2 سے 300 تک منافع کماتے ہیں جبکہ اس دوران ملاوٹ مافیا بھی متحرک ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے فصلوں سے معیاری پیداوار حاصل نہیں ہوتی ہے اور زمین کی زرخیزی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ زہریلی زرعی ادویات کے نرخوں میں بھی بے تحاشا اضافہ کسانوں کی قوت خرید سے باہر ہے۔ نا مناسب کھادوں، زہریلی زرعی ادویات کا استعمال ہونے کی وجہ سے فی ایکڑ پیداوار میں کمی ہونے لگی ہے۔

ہمارے کاشتکار اور کسانوں کی اکثریت غیر تعلیم یافتہ ہے اور انہیں جدید طریقوں سے آگاہی حاصل نہیں ہے۔ انھیں جراثیم کش ادویات کے استعمال، معیاری بیجوں کے انتخاب اورمصنوعی کھاد کے مناسب استعمال کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کی فی ایکڑ پیداوار ملک کی ضروریات کے لحاظ سے بہت کم ہے۔ وہ کاشتکاری کے صرف ان روایتی طریقوں پر یقین رکھتے ہیں جو انھوں نے اپنے بزرگوں سے سیکھے ہیں۔ نئی اور جدید ٹیکنولوجی کا استعمال کرتے ہوئے

کسان بہتر پیداوار حاصل کر سکتے ہیں مگر اس کے لئے کسانوں اور کاشتکاروں کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے کسان اور کاشتکار آج بھی لکڑی کے ہل، گوبر کی کھاد، غیر تصدیق شدہ مقامی بیج اور کاشتکاری کے قدیم طریقے استعمال کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ نہیں ہورہا ہے باوجوداس کے کہ ہمارے کسان انتہائی محنتی اور جفاکش ہیں۔ ٹریکڑ، ٹیوب ویل، کھاد، تصدیق شدہ معیاری بیج اور بیجوں کی ایک منظم اور ترتیب، مشینی کاشتکاری کے اہم اور لازمی اجزاءہیں جبکہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث کسان ان تمام سہولیات کا فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں۔ محکمہ زراعت پر ہمارا کسان اعتبار نہیں کرتا اور کرے بھی کیوں؟ رواں سال کی مثال ہمارے سامنے ہے گندم کی بمپر کراپ ہوئی اور تخمینہ سے چھ لاکھ ٹن زیادہ گندم کی پیداوار ہوئی لیکن کسانوں کو اونے پونے فصل بیچنا پڑی۔ گندم کٹائی کے بعد جتنی دیر رکھی جائے کسانوں کو اتنا ہی نقصان ہوتا ہے اور حکومتی اہلکار یہی کوشش کرتے ہیں کہ کسانوں کو دیر ہو جائے۔ گندم کی کٹائی کے بعد کتنے دنوں تک ٹرالیوں میں گندم خریداری مراکز کے باہر کھڑی نظر آتی ہے اور کوئی کسان سے گندم نہیں خریدتا پھر کسان خود ہی اسے نجی شعبے کو سستے داموں بیچ دیتا ہے ۔ رواں سال بھی یہی ہوا کسان آٹھ سو، ساڑھے آٹھ سو فی من کے حساب سے گندم بیچنے پر مجبور ہو گئے۔ ان تمام مسائل کے بعد کوئی کیسے کسانوں سے زیادہ پیداوار کی امید کر سکتا ہے؟

ہم اس حقیقت کو کب اپنے پلے با ندھیں گے کہ زراعت کوترقی دیئے بغیر اور اس ملک کے کسان کی حالت زار میں بہتری لائے بغیر ہم خود کو زراعت میں خود کفیل نہیں بنا سکتے ہیں۔ دنیا کے اکثر ترقی یافتہ ممالک نے سب سے پہلے زرعی نظام میں اصلاحات اور کسان دوست پالیسیوں کو لاگو کرکے ہی زراعت میں خود کفالت حاصل کی ہے، کیونکہ زراعت کے بغیر نہ تو صنعت کا پہیہ چل سکتا ہے اور نہ مقررہ شرح نمو اور ترقی و خوشحالی کے پیرا میٹرز پر عملدر آمد کو یقینی بنا یا جاسکتا ہے۔ ڈیمز کی کمی اور بارشوں کے باعث گزشتہ دو تین سال سے پاکستان میں آنے والے سیلابوں نے کسانوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کیا۔ رواں سال بھی صوبہ سندھ میں بارشیں ہوئیں، سیلاب آئے اور کپاس کی تقریباً پچاس فیصد سے زائد فصل تباہ ہو گئی۔ اس سیلاب کی وجہ سے کسانوں کو پانچ لاکھ ستر ارب روپے اور ملک کو مجموعی طور پر ڈیڑھ سو ارب روپے کا نقصان ہوا۔

ایگری بزنس فورم کے ایک سروے کے مطابق صوبہ سندھ میں کپاس کی مجموعی پیداوار پینتالیس لاکھ گانٹھیں ہے لیکن اس سال بیس سے پچیس لاکھ گانٹھیں ہی پیدا کی جاسکیں گی۔ یہ بیس سے پچیس لاکھ گانٹھیں سندھ کے چار سے پانچ لاکھ کاشتکار مل کر پیدا کرتے ہیں جن کی فصل تباہ ہوئی ہے۔ سروے اور تحقیق کے مطابق کپاس کی فصل چونکہ تیاری کے قریب تھی اور اس پر کسان نے جتنا خرچ کرنا تھا وہ کر چکا تھا اس لیے آمدن میں نقصان اور فصل پر اٹھنے والے اخراجات کو اگر یکجا کر لیں تو سندھ اور پنجاب کے بعض علاقوں کے ان کاشتکاروں کو ستر سے پچہتر ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔ تاجروں کی تنظیم کے مطابق پاکستانی برآمدات کے لیے اس اہم ترین فصل کی بیس لاکھ گانٹھیں مجموعی مقامی پیداوار یا جی ڈی پی کا ایک فیصد بنتا ہے۔ اس طرح پاکستان کی جی ڈی پی میں ایک فیصد کمی کا خدشہ ہے۔ پاکستان کو کپاس سے ہونے والے دوہرے نقصان کا سامنا ہے۔ ایک تو اس کی جی ڈی پی میں سیدھے سیدھے ایک فیصد کی کمی ہو سکتی ہے دوسری طرف کپڑے کی مصنوعات اور خام کپاس کی برآمد نہ ہونے سے بھی قومی خزانے کو نقصان کا سامنا ہے۔یہ وہ تمام مسائل ہیں جن کے باعث زراعت اور کسان دونوں تباہی کا شکار ہو رہے ہیں۔

ہمارا ملک زراعت کے شعبے میں جب ہی ترقی کر سکتا ہے جب حکومت خود نیک نیتی سے زرعی شعبے کی ترقی پر توجہ دے اور زرعی ترقی کے لئے اقدامات کرے۔ سیاستدان عوام کو سیاسی بیان کے ذریعے ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں، ان بیانا ت سے کسی بھی ملک کا بھلا نہیں ہوا یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک ترقی یافتہ ممالک کے بجائے ابھی تک ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں ہے۔

۲۔شعبہ زراعت کے مسائل:۔(i)۔زراعت کے شعبے سے وابستہ آبادی کا 50فیصد بے زمین ہاریوں پر مشتمل ہے اور یہ غربت سے بری طرح متاثر ہیں۔ جاگیر دارانہ نظام ،ایک ظالمانہ نظام بن گیا ہے۔
ii)۔ کسانوں کو پانی کی کمی کا بھی سامنا رہتا ہے ہے۔ آبپاشی کی سہولتیں ناکافی ہیں۔بھارت کی طرف سے آبی دہشت گردی بھی ہوتی رہتی ہے۔دریاؤں کے پانی پر اس کا کنٹرول ہے۔یہ جب چاہتا ہے ،پاکستان میں سیلاب اور قحط لے آتا ہے۔
iii)۔ اس جدید دور میں بھی پاکستان کا کسان فرسودہ اور پرانے طریقوں سے کاشتکاری کرنے پر مجبور ہے۔زرعی آلات اتنے مہنگے ہیں کہ کسان کی استطاعت سے باہر ہیں۔
iv)۔ مہنگی ہونے کے ساتھ ،جعلی زرعی ادویات بھی،پاکستانی کسان کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔
v)۔ سودی زرعی قرضے اور وہ بھی زیادہ شرح سود پر،غریب کسان کاایک سنگین مسئلہ ہے۔
vi)۔ کسانوں کو ان کی اجناس کی معقول قیمت نہیں ملتی۔ یہ اپنی آمدن سے اپنے روزمرہ کے اخراجات بھی پورے نہیں کر پاتے۔
vii)۔ حکومت کے پاس ضروری غذائی اشیاء ذخیرہ کرنے کے مناسب انتظامات نہیں ہیں۔اس طرح تقسیم کا نظام بھی ناقص ہے۔
viii)۔کسانوں کی ناخواندگی بھی بہت بڑا مسئلہ ہے اور یہ زراعت میں جدت لانے میں ایک رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
ix)۔ فی ایکڑ پیداوار کم ہے۔اس سے مجموعی ملکی پیداوار بھی متاثر ہوتی ہے۔
x)۔ زرعی شعبہ خصوصی فنڈز کی کمی کا شکار ہے۔
xi)۔آبپاشی کے ناقص نظام کی وجہ سے بہت سا پانی ضائع ہوجاتا ہے۔
xii)۔ پانی کی آلودگی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔اس کا سبب نمکیات کی کمی بیشی ہے۔
۳۔زراعت کے مسائل کے اسباب:۔
i)۔زمین کی ملکیت کی حد طے نہیں ۔بڑی بڑی جاگیریں بے آباد اور بے کارپڑی ہیں۔
ii)۔چھوٹے چھوٹے کھیتوں کی تعداد زیادہ ہے۔لہٰذا ان میں جدیدطریقوں سے کاشتکاری ممکن نہیں ہوتی۔
iiiَ)۔حکومت نے اپنے فیصلوں میں زراعت کو کبھی ترجیحی طور پر نہیں لیا۔اس لئے یہ شعبہ حکومتی عدم دلچسپی کا شکار ہے۔
iv)۔ کھیتوں کا ناہموار ہونا بھی ایک سبب ہے۔
v)۔ کھادوں کا غیر متناسب استعمال بھی مسائل کو جنم دیتا ہے۔
vi)۔غیر معیار بیجوں کا استعمال بھی پیداوار پر اثر ڈالتا ہے۔
vii)۔ ناقص زرعی ادویات، دوہرا نقصان پہنچاتی ہیں ۔ایک تو پیداوار ضائع ہوتی ہے دوسرے زمین بھی ناکارہ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
viii)۔پاکستان واحد ملک ہے جہاں زرعی آلات پر ٹیکس عائد ہے۔
ix) ۔منڈیوں تک رسائی میں بھی دشواریاں حائل ہوتی ہیں ۔
x)۔ موسموں اور سیلابوں کی غیریقینی صورتِ حال سے بھی زراعت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
xi)۔ سیم اور تھور سے بھی زمین ناکارہ ہوجاتی ہے اور پیداوار دینے کے قابل نہیں رہتی۔
۴۔زراعت کے مسائل کا حل:۔
i)۔حکومتی سطح پر زرعی شعبہ کے لئے فنڈز میں اضافہ کیا جائے اور خصوصی مراعات کا اعلان کیا جائے۔
ii)۔کسانوں کو پانی کی فراہمی کو بہتر بنایا جائے اور آبپاشی کے متبادل ذرائع تلاش کئے جائیں۔
iii)۔زرعت کے جدید طریقوں سے استفادہ کیا جائے۔
iv)۔حکومت کسانوں سے مشاورت کے بعد ،ہر فصل کے پیداواری اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتیں متعین کرے۔
v)۔بڑی بڑی جاگیروں کو مناسب مقدار کے کھیتوں میں تقسیم کیا جائے اور پھر ان کی کاشت کا بندوبست کیا جائے۔
vi)۔ڈیموں کی تعمیر بلا تاخیر کی جائے ،تاکہ پانی ذخیرہ کیا جاسکے اور اس سے توانائی بھی پیداکی جائے۔
vii)۔کسانوں میں زمینوں کی تقسیم منصفانہ بنیادوں پر اور طے شدہ معیار کے مطابق شفاف انداز میں ہونی چاہئے۔
viii)۔حکومت کو زراعت کی ترقی کے لئے انفراسٹرکچر پر توجہ دینی چاہئے۔
ix) ۔کسانوں کو بلا سود قرضے فراہم کئے جائیں اور چھوٹے کاشتکاروں کو مالی اامداد دی جائے۔
x)۔دوسرے ملکو ں کی طرح پاکستان میں بھی زرعی آلات پر ٹیکس ختم کیا جائے۔
xi)۔غیر معیاری بیجوں اور زرعی ادویات کی سپلائی کو کنٹرول کیا جائے۔
*۔۔۔ اگر حکومت زراعت کے شعبہ کی اہمیت کے پیشِ نظر ،اس کو اپنی ترجیحات میں شامل کرلے اور اس کے گوناں گوں مسائل پر توجہ دے تو یہ بآسانی حل ہو سکتے ہیں۔ اس سے زراعت کا شعبہ دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرے گا۔ یوں پاکستا ن خوشحال ہوگا اور اس کے عوام آسودہ ہوں گے۔پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے وافر افرادی قوت سے بھی نوازا ہے جو باصلاحیت اور ہنر مند ہے۔کمی، صرف باہمت اور پُر عزم قیادت کی ہے۔جو دیانتدارہو اور پاکستان سے مخلص بھی ہو۔

وہاڑی میں سرکاری ہائی سکولوں کی تعداد ایک سو 77 ہے ان میں سے سب سے پرانا سکول گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول ہے جو قیام پاکستان سے قبل 1925ء میں بنایا گیا تھا۔ اس وقت سکول میں دو ہزار سے زائد طالب علم زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں۔

وہاڑی کا ماڈل سکول 1925ء میں قائم ہوا لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ کالجز موجود ہیں۔ وہاڑی میں گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول موجود تھا جسے 1968ء میں کالج، 1980ء میں ڈگری کالج اور 1999ء میں پوسٹ گریجویٹ کالج کا درجہ دے دیا گیا۔لڑکیوں کے لیے گورنمنٹ کالج 1974ء میں قائم ہوا جسے سال 1999ء میں پوسٹ گریجویٹ کا درجہ دے دیا گیا۔صحت:وہاڑی میں دو سو بیڈز کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال موجود ہے جو وہاڑی کی آبادی کے لیے ناکافی ہے۔ ڈی ایچ کیو میں چھ سو بیڈز پر مشتمل بلڈنگ کی تعمیر تاحال تاخیر کا شکار ہے

ثقافت یا تہذیب وہ رسم و رواج اور طور طریقے ہیں جن پرعمل کرنا معاشرہ میں اچھا سمجھا جاتا ھے اور ترک کرنا معاشرہ میں برا سمجھا جاتا ہے . سماج جن ثقافتی پابندیوں اور رجحانات پر تشکیل پاتا ہے ان میں مذھب ، زریعہ معاش ، علاقائی وابسطگی ، غیر مذھبی معاشرتی مقاصد کیلئے عقلی منطق اور سیاسی و دنیاوی غرض پر مبنی نفرت و محبت کی تحریک کارفرما ہے.

وھاڑی میں تا ریخی پہلو سے تہذیبوں کا ٹکراؤ، قیامِ پاکستان کے وقت علاقائی آبادکاری اورمختلف مذاھب کا اثر لئے مسلمان ، زبانوں اور ثقافتوں کے اثرات سے میلسی کے لوگوں میں رسوم و رواج ، قومیت ، ذات پات ، لسانیت اور ملتان پر حملے کے نتیجہ میں میلسی میں آبادکاری سکھوں کی ملتان میں حکومت اورریاست بھاولپورکے تہذیبی اثرات اور مذھبی تصوراتی اختلافات سے ثقافتی طور پر وھاڑی کی عوام منقسم چلی آ رھی ھے.

قیام پاکستان کے وقت معاشرہ بہت پسماندہ تھا اگرچہ 53سال کے بعد اب بھی تمدن اور تہذیب کاکوئی انقلاب نہیں آیا۔نصف صدی پہلے غربت اور جہالت کے سبب قصبہ اور وھاڑی کی اکثریت پسماندہ زندگی گزار رہی تھی۔بجلی،علاج معالجہ ،تعلیم،سفراور رہن سہنکی سہولتیں میسر نہ تھیں لوگ کچے مکانات میں رہتے ۔اُمراء کیلئے گھوڑے اور تانگے اہم سواریاں تھیں۔شادی بیاہ میں لوگ بڑی دلچسی اور ذمہ داری کے ساتھ شرکت کرتے ۔ شادی کی تقریبات کئی دن جاری رہتیں۔ اخوت محبت اور دوستی کے پروان کے لیے دوست آپس میں پگڑیاں تبدیل کرتے سالانے میلے لوگوں کی تفریح کا سب سے بڑا ذریعہ تھے دیوان شیخ چاولی مشائخ (بورے والہ ) ابوبکر وراق(میلسی ) سلطان ایوب قتال (دنیا پور)پیرجیون سلطان (کہڑوڑ پکا ) کے میلے اب بھی عوام کی دلچسپی کے مراکز ہیں ۔
لو گوں کے قریبی روابط اور میل جول کے سبب پنچا یت ایک موثر سماجی قدر رہی ہے۔ زرعی آمدنی اور معاشی ترقی کی بدولت پاکستان بننے کے کچھ عرصے بعد زمینداروں کی حالت سدھرنے لگی اور قصبہ میلسی میں پختہ مکانات کی تعمیر اور شہری سہولتوں کا آغاز ہوا نصف صدی کے تاریخی عمل کے نتیجے میں وھاڑی شہرا دردرجنوں قصبات و دیہات میں بجلی ، ٹیلی فون ، تعلیم ، اور دوسری شہری سہولتیں پہنچ چکی ہیں ۔ وھاڑی شہر میں تمدن کے آثار رونما ہوئے ہیں ۔ نقشے کے مطابق پختہ مکانات اور بچوں کے لیے تعلیم کا رواج عام ہو چکا ہے۔ لوگوں میں اب پہلے وقتوں کی طرح شادی و بیاہ پر وافر وقت اور پیسہ خرچ کرنے کی گنجائش نہیں اور زندگی پہلے کے مقابلے میں بہت تیز ہو گئی ہے ۔
اموات کے موقع پر جنازہ ، قل خوانی اور فاتحہ میں شرکت لوگ اپنی اخلاقی ، مذہبی اور معاشرتی ذمہ داری سمجھتے ہیں ۔ مقتدر سیاستدان اپنے اپنے حلقہ نیابت میں نمایاں اور بااثر افراد کی اموات پر اُن کے لواحقین سے بہ التزام تعزیت کرتے ہیں ۔ سیاست میں یہ رسم ایک سیاسی ذمہ داری بن چکی ہے ۔
شہری آبادی میں شلوار قمیض اور پینٹ شرٹ جبکہ دیہات میں پرانے وقتوں کا لباس دھوتی قمیض پسندیدہ ملبوسات ہیں پچاس سال قبل امراء سر پر طرے والی پگڑیاں پہنتے تھے جسکا رواج اب ختم ہو چکا ہے۔

تاریخی عمارتیں:

وہاڑی میں سناتن دھرم مندر کی تعمیر قیام پاکستان سے قبل 1940ء میں شروع ہوئی۔ مندر کی بنیاد سیٹھ بھولا ناتھ رام داس اگروال نے رکھی تھی۔ جب ہندوستان میں مسلمانوں کی تحریک نے زور پکڑا تو مندر کی تعمیر رک گئی۔1992ء میں ہندوستان میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے بابری مسجد کو شہید کیا گیا تو وہاڑی میں بھی مسلمانوں نے احتجاجی جلوس نکالا اور عوام نے مشتعل ہو کر اس مندر پر حملہ کر دیا۔ مندر کی جگہ اب ٹرسٹ پلازہ بنا دیا گیا ہے۔ اب صرف مندر کا ایک مینار باقی ہے

میاں پکھی ریسٹ ہاؤس:

وہاڑی سے بورے والہ روڈ پر 22 کلومیٹر کے فاصلے پر اڈا پکھی موڑ سے ایک سڑک میاں پکھی کی طرف جاتی ہے جہاں بزرگ حضرت میاں پکھی کا مزار واقع ہے۔ جس وجہ سے اس آبادی کو میاں پکھی کہا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس تاریخی عمارت کے نشانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں قیام پاکستان سے قبل میاں پکھی ریسٹ ہاؤس کی پرشکوہ عمارت اپنی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ تاریخی اہمیت کی حامل تھی۔

جامع مسجد باغ والی:

وہاڑی کی تاریخی مسجد جامع مسجد باغ والی ہے جو شہر کے عین وسط میں ریل بازار اور کلب روڈ کے درمیان واقع ہے۔ یہ مسجد 1962ء میں تعمیر کی گئی۔ مسجد سے قبل اس جگہ پر باغ موجود تھا جس وجہ سے مسجد کا نام باغ والی مسجد رکھ دیا گیا

چڑیا گھر:

عید گاہ روڈ پر واقع ایک چڑیا گھر بھی ہے جو پنجاب حکومت نے 1988 میں وائلڈ لائف پارک کو بنایا تھا 16 ایکڑ اراضی پر مشتمل اس وائلڈ لائف پارک میں شیر، ہرن، نیل گائے کے علاوہ کئی قیمتی اور نایاب جانور موجود ہیں یہ پارک جنوبی پنجاب کا بہترین چڑیا گھر کا درجہ رکھتا ہے۔مشہور ساغات:وہاڑی کی مہشور سوغاتوں میں بابا گامے کا فالودہ، ثناءاللہ اور حبیب کے دہی بڑے بہت مشہور ہیں۔

میلسی سائیفن
میلسی سائیفن آمر پاکستان خود ساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے جب پنجاب کے تین دریائوں کے پانی کو ہندوستان کے ہاتھوں فروخت کر کے قومی تاریخی اور ناقابل معافی جرم کا ارتکا ب کیا تو دریائے سندھ کے پانی کو دریائے چناب سے نکال کر دریائے راوی میں ڈالا گیااور سندھنائی میلسی لنک تعمیر کی گئی اسطرح سندھ اور پنجاب کے درمیاں پانی کے تقسیم کے مسئلے پر جھگڑے کی مستقل بنیاد رکھ دی گئی۔سندھنائی میلسی لنک کینال نے میلسی کی زراعت میں اہم کردار ادا کیاہے ۔غیر ملکی امداد کے ساتھ موضع نعمت علی دریائے ستلج پر میلسی شہر سے تقریباً 15کلو میٹر فاصلے پر فنی تعمیرات کا نادر نمونہ میلسی سائیفن1964میں تعمیر کیا گیا۔

جلہ جیم
جلہ جیم تحصیل میلسی کا بہت پرانا قصبہ ہے۔ تاریخ سے واقفیت رکھنے والے بہت سے لوگوں کی رائے میں جلہ جیم میلسی شہر سےکافی پرانا ہے۔ سنئیر اخبار نویس محمد جاوید عزیز کی تحقیق اورمیاں عبدالسلام ایڈووکیٹ جوچھ مرتبہ میلسی بار کے صدربھی رہ چکے ہیں کے دعوے کے مطابق قصبہ جلہ جیم کی بنیاد ساڑھے چار سو سال قبل میاں عبدالسلام ایڈووکیٹ کے جد امجد حکیم میاں جلال الدین نے اپنے نام کی نسبت سے ڈالی ۔ جلہ جیم کا پرانا نام ” پرگنہ ہاکڑا ” تھا . جلال الدین کے بیٹے میاں رکن الدین نے جلہ جیم کی تاریخی بادشاہی مسجد 1058ھجری میں تعمیر کرائی.
گورنمنٹ پرائمری سکول جلہ جیم تعلیم کے بلند معیار اور تعلیمی وظائف کے حوالے سے مشہور رہا ہے۔ جلہ جیم میں اہلسنت دیو بند کی مشہور درسگاہ اشاعت القرآن قائم ہے ۔ جلہ جیم مہندی کے حوالے سے پاکستان بھر میں متعارف ہے ۔ جلہ جیم کے مشاہر میں حکیم میاں قمرالزمان مرحوم ۔ حاجی محمد رمضان مرحوم . ارشاد احمد خان مرحوم ۔ محمود حیات خان عرف ٹوچی خان ۔ میاں جمال محمد ۔ چوہدری رحیم بخش ۔ عبدالرحمن خالد ۔ رائو رفیق احمد ۔ ڈاکٹر فضل کریم ۔ میاں شعیب ارائیں۔ میاں عبدالمالک ۔ جہانگیر خان . یاسر خان ۔ ماسٹر نذیر محمد ۔ ملک عبداﷲ ۔ غلام مرتضی بھٹی وغیرہ شامل ہیں ۔
جلہ جیم کی ممتازسیاسی و سماجی شخصیت حکیم قمر الزمان نے 1947میں مہاجرین کی آباد کاری میں بھر پور تعاون کیا۔ اور ایک تا حیات مہاجرین کے معاون رھے .

خانپور
تحصیل میلسی کے قدیم قصبات میں قصبہ خانپور بھی شامل ہے قیام پاکستان سے پہلے ہندو روساء کھیم راج بترا اور مرلی دھر بترا وغیرہ اس قصبے میں رہتے تھے۔بترا فیملی کا شمار بڑے نوابین میں ہوتا تھااور انکے رؤسائے فدہ کے ساتھ سماجی تعلقات تھے ۔قیام پاکستان کے بعد کثیر تعدادمیں مہاجر راجپوت سید ارائیں یہاں آباد ہوئے ۔کیپٹن قطب خان (ایم ایل اے)کا تعلق بھی اسی قصبہ سے تھا ۔کیپٹن قطب خان کا نام تاریخی حوالے سے اس لئے ضروری ہے کہ اس نے دونوں عظیم جنگوں میں حصہ لیا اور حکومت بر طانیہ سے بہادری کے اعزازات حاصل کئے اس قصبے کے ایک اور سماـجی کارکن حاجی دوست محمد عرف چن میاں نے بڑی عزت اور شہرت پائی ۔دوست محمد عرف چن میاں نے خان پور میں بنیادی مرکز صحت کیلئے قطعہ اراضی عطیئے کے طور پر دیا۔دوست محمد عرف چن میاں متعدد بار یونین کونسل فدہ کا وائس چیئر مین منتخب ہوا۔چن میاں1997میں ہمیشہ نامعلوم رہنے والے دہشت گردوں کے ہاتھوں جا ںبحق ہوا۔خانپور میں روحانی پیشوا غازی پیر گیلانی کے مزار کے پہلو میں برگد کا ایک قدیم درخت ہے ۔کنور ممتاز احمد خان ،کنور ریاض احمد خان مشہور شاعر ،صحافی مرید عباس خاور ،رائو محمد اکرم ایڈووکیٹ ،سید مصدق حسین بخاری ،ڈاکٹر مہر خادم حسین ،سید فتح دریا شاہ گیلانی،شمشیر حسین ایڈووکیٹ ،چوہدری انعام اللہ (اسسٹنٹ انجینیئر)کنور محمد خالد ایڈووکیٹ کا تعلق قصبہ خان پور سے ہے ۔پنجابی فلم شیرا ڈاکو کے حقیقی کردار شیر محمد عرف شیرا ڈاکو کا تعلق بھی قصبہ خانپور سے ہے جو اپنی زندگی میں پولیس کے لئے چیلنج بنا رہا اور ایک دن پاکستا ن میں مروجہ پولیس مقابلے میں جاں بحق ہو گیا۔

ضلع وہاڑی کی معروف سیاسی شخصیات میں میاں ممتاز دولتانہ، سعید خان منیس اور محترمہ تہمینہ دولتانہ شامل ہیں۔میاں ممتاز دولتانہ سابق وزیر اعلیٰ متحدہ مغربی پاکستان، ایم این اے سعید خان منیس سابق سپیکر پنجاب اسمبلی اور ایم این اے محترمہ تہمینہ دولتانہ سابق وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی رہ چکے ہیں۔معروف شاعر عباس تابش کا تعلق بھی ضلع وہاڑی سے ہے۔فائر فائٹر خاتون ریسکیو 1122 کی فائر فائٹر خاتون شازیہ پروین جنہیں ایشیاء کی پہلی فائر فائٹر خاتون ہونے کا اعزاز حاصل ہے ان کا تعلق بھی وہاڑی سے ہے

2014 Powered By WWW.VEHARI.COM.PK Marvel System Team