انجمن آڑھتیاں متنازعہ کیوں؟

غلہ منڈی وہاڑی 1927 میں قائم ہوئی اور قیام پاکستان کے بعد سے انجمن آڑھتیاں کا باقاعدہ ہر دو سال بعد انتخاب ہوتا ہے۔

گزشتہ دس سال سے انجمن آڑھتیاں غلہ منڈی کے دو گروپوں میں ہلکی پھلکی نوک جھونک ہوتی رہی ہے۔ جن میں ایک راؤ تسلیم خان اور دوسرا چودھری مشتاق گوجر گروپ ہے۔ انہی دوگ روپوں میں گزشتہ دس سال سے الیکشن ہوتا ہے اور دونوں میں سے ایک گروپ فتح سے ہمکنار ہوتا ہے۔

لیکن چند سال قبل یہ معاملہ شدت اختیار کر گیا تب سے اقدار کی جنگ کے لیے دونوں گروپ ایک دوسرے کے انتہائی مخالف نظر آئے۔

گزشتہ چند دن سے دونوں گروپوں کے درمیان نوک جھونک کا معاملہ گیٹ کو بند کرنے سے شروع ہوا جس کے بعد انتہائی تناؤ کی فضا پائی جاتی ہے اور کئی بار جھگڑا ہوتے ہوتے رہ گیا۔

پولیس نے دونوں گروپوں کے درمیان مفاہمت کی بجائے ایک گروپ کے خلاف مقدمہ درج کر دیا۔

معاملے بارے حقائق جاننے کے لیے دونوں گروپوں کے رہنماؤں سے سجاگ نے بات چیت کی ہے۔

نا انصافی کی حد تو اس وقت ہوئی جب پولیس کی جانب سے ہمارے چار نامزد اور پچیس نامعلوم افراد کے خلاف غلہ منڈی کے تالے توڑنے کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ “طاہر شریف گوجر”

انجمن آڑھتیاں غلہ منڈی راؤ تسلیم خاں گروپ کے رہنما چودھری طاہر شریف گوجر نے بتایا کہ انجمن آڑھتیاں کے الیکشن گزشتہ کئی عشروں سے صاف شفاف انداز میں ہو رہے ہیں لیکن رواں سال ہار کے ڈر سے مشتاق گوجر گروپ کے رہنماؤں نے ڈرائینگ روم الیکشن کرا کے ڈیڑھ انچ کی مسجد بنا ڈالی۔

ان کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر اس کا کوئی وجود نہیں کیونکہ انجمن آڑھتیاں باقاعدہ رجسٹرڈ یونین ہے جس کا مکمل ریکارڈ اور رجسٹریشن ہمارے پاس موجود ہے اور زیادہ ممبران بھی ہمارے گروپ میں شامل ہیں اس لیے غلہ منڈی پر ہمارا حق بنتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کئی سال سے غلہ منڈی کے چوکیداروں کو تنخواہ بھی ہم دے رہے ہیں اور منڈی کی چابیاں بھی ہمارے پاس ہیں لیکن چار روز قبل مخالف گروپ کے چند افراد نے غلہ منڈی کے تالے توڑ کر اپنے تالے لگا ڈالے جو سراسر غیر قانونی اور غیر اخلاقی فعل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس خلاف ورزی کے سلسلے میں پولیس تھانہ سٹی کو درخواست دی لیکن کوئی عمل درآمد نہ ہوا بلکہ ڈی ایس پی صدر کی قیادت میں پولیس کے درجنوں اہلکار غلہ منڈی آئے تاکہ کشیدہ حالات میں جھگڑا کو روکا جا سکے۔

لیکن انہوں نے امن و امان قائم کرنے کی بجائے اپنی موجودگی میں مخالف گروپ سے گیٹ کو تالے لگوائے جب کہ ہمارے گروپ کے درجنوں افراد ان کو روکنے کے لیے آگے بڑھے چونکہ ہم جھگڑے کے حق میں نہیں تھے اس لیے انہیں الجھنے سے روک دیا گیا لیکن پولیس نے مکمل طور پر مخالف گروپ کی طرف داری کی جو انصاف کے تقاضوں کے برعکس ہے۔

دونوں گروپوں کے درمیان تلخ کلامی پر پولیس درمیان میں موجود ہے

دونوں گروپوں کے درمیان تلخ کلامی پر پولیس درمیان میں موجود ہے

طاہر شریف بتاتے ہیں کہ نا انصافی کی حد تو اس وقت ہوئی جب پولیس کی جانب سے ہمارے چار نامزد اور پچیس نامعلوم افراد کے خلاف غلہ منڈی کے تالے توڑنے کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ایس ایچ او تھانہ سٹی کی جانب سے پہلی معلوماتی رپورٹ کی تفصیل بارے نہیں بتایا اورنہ ہی اس کی کاپی دی گئی ہے پرچی سیل کرنے کا کہہ کر خاموش کر دیا گیا ہے۔

مذکورہ گروپ کے صدر راؤ تسلیم خاں کا کہنا ہے کہ پولیس کو چاہیے تھا کہ دونوں گروپوں کے نمائندگان کی میٹنگ بلا کر مذاکرات کرواتی لیکن انجمن آڑھتیاں کے رہنماؤں جو معزز شہری بھی ہیں کے خلاف مقدمہ درج کر کے پولیس نے مکمل جانبداری کا ثبوت دیا ہے۔

انجمن آڑھتیاں مشتاق گوجر گروپ کے ترجمان ارشاد حسین بھٹی نے بتایا کہ چار سال قبل انجمن کے انتخاب میں ہمارا گروپ جیتا جس نے دو سال پورے کیے اور اگلے دو سال کے لیے الیکشن کے ذریعے مخالف گروپ نے فتح حاصل کی۔

ہمارے گروپ نے اختیارات جمہوری انداز میں منتقل کر دیے لیکن رواں سال بار بار بتانے کے باوجود راؤ تسلیم خان گروپ نے الیکشن میں حصہ نہ لیا جس پر ہمارا گروپ بلا مقابلہ منتخب ہوا جس کو مارکیٹ کمیٹی نے بھی باقاعدہ تسلیم کیا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ اسی بات کے تناظر میں عدالت سے تالے لگانے کی اجازت حاصل کی اور تالے لگا دیے جو مخالف گروپ نے توڑ دیے جس پر پولیس تھانہ سٹی میں درخواست گزاری اور مقدمہ درج ہو گیا۔

ارشاد حسین بھٹی نے بتایا کہ اگر مقدمے کے خلاف احتجاج کرنا ہے تو غلہ منڈی میں کریں رمضان بازار کو بند کرنا سازش سے کم نہیں۔

پولیس کی جانب سے ایک گروپ کے خلاف مقدمہ سے معاملات مزید بگڑنے کا خدشہ ہے اور مفاہمت سے بہتر اس کا کوئی حل نہیں۔