رمضان بازار، ریلیف دے رہا ہے یا تکلیف

ماہ رمضان میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے پنجاب بھر کے شہروں میں رمضان بازار لگائے گئے ہیں جن کا مقصد سستے داموں معیاری اشیائے خوردونوش کی فراہمی ہے۔

کیا پنجاب حکومت عوام کو ریلیف دینے میں کامیاب ہو پائے گی؟ اس حوالے سے نمائندہ سجاگ نے عام بازار کا رمضان بازار سے موازنہ کیا ہے۔

یوٹیلٹی سٹورز کی جانب سے لگائے جانے والے سٹال پر خاص طور پر گھی، کوکنگ آئل اور چینی کو فوکس کیا گیا ہے۔

سٹال انچارج اظہر ندیم چاولہ بتاتے ہیں کہ ان کے پاس آغاز بناسپتی اور گھی بھاری مقدار میں موجود ہے گھی عام بازار کی قیمت 120 کے مقابلے میں 116 روپے فی کلو فروخت کر رہے ہیں۔

یوٹیلٹی سٹورز پر چینی 55 روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے۔ جبکہ عام مارکیٹ میں اس کی قیمت 52 روپے ہے۔

رمضان بازار میں کھجور، سیب، کیلا، خوبانی، آلو بخارہ، آم، آڑو سمیت دیگر پھلوں اور سبزیوں پر بازار سے فی کلو پانچ روپے کم قیمت پر فروخت ہو رہے ہیں۔ جبکہ گوشت کی قیمتوں میں دس روپے کا فرق ہے۔

چکن سٹال کے مالک اقتدار حسین کا کہنا ہے کہ ہمیں گوشت کم قیمت میں فروخت کرنے کا کہا جا رہا ہے لیکن رمضان بازار میں سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے سیل پر اثر پڑ رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شدید حبس کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر تین سے چار مرغیاں مر جاتی ہیں جس سے نقصان ہو رہا ہے جب کہ ہمیں بھی سخت گرمی میں کوئی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔

فروٹ سٹال پر موجود دکاندار محمد ابراہیم نے بتایا کہ تمام پھلوں پر پانچ روپے فی کلو رعائت دی گئی ہے لیکن انتظامیہ ہمیں کوئی ریلیف نہیں دے رہی ہے۔

سیکرٹری مارکیٹ کمیٹی راؤ محمد ندیم نے بتایا کہ مارکیٹ کمیٹی کے لیے سترہ فوڈ آئٹمز مخصوص کر دی گئی ہیں جن میں سے پانچ اشیاء پر فی کلو 20 روپے ریلیف دیا جا رہا ہے جبکہ بقیہ گیارہ بھی ہول سیل قیمت پر فروخت کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بیسن 90 روپے دے رہے ہیں جبکہ عام مارکیٹ میں 110 روپے فی کلو گرام ہے اور اس کی فروخت سب سے زیادہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سال رمضان بازار کے لیے 75 میٹرک ٹن چینی مہیا کی جا رہی ہے جس سے قریباََ پندرہ سو بیگ پچاس کلو کے بنتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے اعلیٰ معیار کی سبزیاں پھل اور دیگر اشیاء فروخت کی جا رہی ہیں جو عوام کے لیے تحفے سے کم نہیں۔

رمضان بازار میں چک نمبر 53 ڈبلیو بی سے آئے گاہک دلاور حسین نے بتایا کہ رمضان بازار میں عوام کو ریلیف صرف باتوں کی حد تک دیا جا رہا ہے کیونکہ جس جگہ رمضان بازار لگایا گیا ہے وہ غریب آبادی والے اکثریتی علاقوں 9-11 ڈبلیو، مسلم ٹاؤن، کالج ٹاؤن، نو جوئیانوالہ، مکہ ٹاؤن، بلال ٹاؤن، چک 13 ڈبلیو بی، 75 ڈبلیو بی سے بہت دور ہیں۔

رمضان بازار وہاڑی کے پوش علاقوں جی بلاک، ایف بلاک، شرقی کالونی کے درمیان لگایا گیا ہے۔

جس کی وجہ سے غریب کو سو پچاس روپے رکشے کا کرایہ دے کر رمضان بازار تک آنا پڑتا ہے اور یہی بات سوچتے ہوئے وہ عام بازار سے ہی خریداری کر لیتے ہیں۔

بلدیہ کے چیف آفیسر راؤ نعیم خالد کا کہنا ہے کہ ضلع بھر میں کل چار رمضان بازار لگائے گئے ہیں جن میں وہاڑی، میلسی، بوریوالہ اور گگو شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ضلع بھر کے لیے ساٹھ لاکھ مختص کیے گئے ہیں جن میں سے سولہ لاکھ وہاڑی کے رمضان بازار کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

چار رمضان بازاروں میں سے تین رمضان بازار متعلقہ تحصیلوں کی بلدیات کی جانب سے لگائے گئے ہیں جب کہ محض ایک رمضان بازار ضلع کونسل کی جانب سے لگایا گیا ہے۔

مرکزی انجمن تاجران کے صدر چودھری طاہر شریف گوجر کا کہنا ہے کہ ضلع کونسل کی جانب سے محض ایک رمضان بازار لگانا حیرانگی کی بات ہے حالانکہ لڈن، گڑھا موڑ، ماچھیوال، ٹبہ سلطان پور سمیت بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں رمضان بازار کی اشد ضرورت ہے کیونکہ یہاں کے لوگ اپنی قریبی تحصیل میں جا کر خریداری کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہاڑی کے رمضان بازار میں بھی من پسند لوگوں کو نوازا گیا ہے جو لوگوں کو ریلیف دینے کی بجائے دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔