60

عید ان کے ساتھ جو ضرورت مند ہیں

نوجوان طبقہ جہاں تعلیم، صحت، زراعت ،کھیلوں میں اپنے ساتھ ساتھ ملک کا نام روشن کر رہا ہے وہیں اکثر لڑکے لڑکیاں اپنا زیادہ تر وقت فیس بک، واٹس ایپ اور ٹویٹر پر ضائع کرتے بھی نظر آتے ہیں۔

غریب، نادار اور مستحق افراد کی مدد کرنا عام طور پر گھر کے بڑوں کی روایت رہی ہے اور خاص طور پر رمضان المبارک میں بہت سے ادارے اور افراد مستحق لوگوں میں راشن تقسیم کرنے کا بندوبست کرتے ہیں جس میں زکوۃ، فطرانہ وغیرہ سے مدد کی جاتی ہے۔

لیکن وہاڑی میں موجود نوجوانوں کی ایک تنظیم نے اپنی ذاتی کوششوں سے ایسے مستحق افراد کی مدد کرنے کی ٹھانی جو ضرورت مند تو ہیں لیکن سفید پوشی کی وجہ سے کسی کے آگے ہاتھ بھی نہیں پھیلاتے۔

وہاڑی میں سنہ 2011ء سے کام کرنے والی تنظیم “بلیز یوتھ ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن” نے ‘کارڈ آف ہیپی نس’ کے نام سے ایک نئی روایت کا آغاز کیا ہے۔

خوشیوں کا یہ کارڈ ایک سادہ عید کارڈ جیسا ہے جس میں انگریزی اور اردو میں مستحق افراد کی مدد کرنے کی اپیل کی گئی ہے تاکہ کم وسائل کے لوگوں کو بھی اس قابل بنایا جائے کہ وہ عید کی خوشیاں اچھے انداز میں منا سکیں۔

ایک ہزار روپے سے زائد مالیت کے پانچ سو پیکج تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس میں تین سو سے زائد کی رقم جمع ہو چکی ہے جب کہ ایک سو پیکج مستحق گھرانوں کو دیئے جا چکے ہیں۔”عرفان تاج”

ایک ہزار روپے سے زائد مالیت کے پانچ سو پیکج تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس میں تین سو سے زائد کی رقم جمع ہو چکی ہے جب کہ ایک سو پیکج مستحق گھرانوں کو دیئے جا چکے ہیں۔

بلیز یوتھ ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن کے صدر محمد عرفان تاج نے بتایا کہ ان کی تنظیم میں پندرہ سے اٹھائیس سال تک کے لوگ ممبر بن سکتے ہیں اور اس وقت تنظیم وہاڑی، اسلام آباد، لاہور اور بہاولپور میں کام کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس تنظیم میں سات ایگزیکٹو ممبر، پچیس جنرل باڈی ممبر اور پانچ سو کے قریب رضاکاران شامل ہیں جن میں لڑکیوں کی بھی کثیر تعداد شامل ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ اس رمضان ہم نے مستحق افراد میں راشن تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا لیکن روایتی طریقہ سے ہٹ کر کچھ کرنا چاہتے تھے اس لیے ایک لمبی میٹنگ کے بعد دیوار مہربانی سے متاثر ہو کر ’’خوشیوں کا کارڈ‘‘ کے نام سے ایک نئے آئیڈیا پر کام کرنے کا سوچا۔

“خوشیوں کے کارڈ کے تین بڑے مقاصد سامنے رکھے گئے جس میں عید کارڈ کی دم توڑتی روایت کو زندہ کرنا، دوسرا مستحق افراد کی ایسے مدد کرنا کہ وہ بھی عام لوگوں کی طرح خوشیوں میں شریک ہو سکیں تیسرا نوجوان نسل کوخدمت خلق جیسی مثبت سرگرمی کی طرف راغب کرنا شامل ہے۔”

 دیوار مہربانی سے متاثر ہو کر ’’خوشیوں کا کارڈ‘‘ کے نام سے ایک نئے آئیڈیا پر کام کرنے کا سوچا۔

دیوار مہربانی سے متاثر ہو کر ’’خوشیوں کا کارڈ‘‘ کے نام سے ایک نئے آئیڈیا پر کام کرنے کا سوچا۔

تنظیم کے سیکرٹری اطلاعات عمر دراز بتاتے ہیں کہ خیرات اور دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے اور بہت سے ایسے گھرانے جو مستحق ہونے کے باوجود کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے انہیں ڈھونڈنے اور عزت نفس مجروح کیے بغیر ان کی امداد کرنے کے لیے منصوبہ بنایا گیا کہ ہر ممبر اپنے گلی محلے رشتہ داروں میں ایسے لوگ تلاش کرے اور اس بات پر قائل کرے کہ ان کی امداد انتہائی رازداری سے کی جائے گی۔

“خوشیوں کا کارڈ ہر ممبر اپنے ان دوستوں اور عزیز و اقارب کو دیتا ہے جنہیں وہ کچھ سال قبل عید بھجوایا کرتا تھا یا اگر اب یہ روایت موجود ہوتی تو انہیں بھجواتا اور ساتھ ہی انہیں مستحق افراد کے عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کے منصوبے بارے بھی بتاتا ہے۔”

انہوں نے بتایا کہ اب تک آٹھ سو کارڈ تقسیم کئے گئے ہیں اور کارڈ وصول کرنے والا اپنی مرضی سے امدادی رقم دے سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ لوگوں نے پانچ سو سے دس ہزار روپے تک ڈونیشن دیا گیا ہے اور اب تک وہاڑی میں ایک سو بیس راشن کے پیکج کے لیے رقم جمع کر لی گئی ہے اور کل پانچ سو مستحق افراد کی امداد کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

سینئر ممبر خورشید منظور کے مطابق راشن کے ایک پیکج میں دس کلو آٹا، دو کلو چینی، دو کلو چاول، دو کلو کوکنگ آئل، دو پیکٹ سویاں کے علاوہ کھجور، سفید چنے، لوبیا، دال مونگ، مسور، چائے کی پتی، روح افزاء اور بیسن شامل ہیں۔

جمع کی گئی کل رقم کا نوے فیصد راشن کی صورت میں دیا جائے گا جب کہ دس فیصد سے تحائف خریدے جائیں گے جو عید کے روز جیل کے قیدیوں اور دارالامان کی خواتین کو پیش کیے جائیں گے۔”خورشید منظور”

پیکج کی مالیت ایک ہزار روپے سے زائد ہے جب کہ جمع کی گئی کل رقم کا نوے فیصد راشن کی صورت میں دیا جائے گا جب کہ دس فیصد سے تحائف خریدے جائیں گے جو عید کے روز جیل کے قیدیوں اور دارالامان کی خواتین کو پیش کیے جائیں گے۔

تنظیم کی نائب صدر مریم عاشق بتاتی ہیں کہ “جب ہم یہ کام شروع کرنے جا رہے تھے تو زیادہ پُراعتماد نہیں تھے اور ہمیں لگتا تھا کہ نوجوان ہونے کی وجہ سے لوگ ہماری کاوش کو سنجیدہ نہیں لیں گے اور طرح طرح کے سوال اٹھائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ صورتحال یکسر مختلف رہی کیونکہ ایک تو نوجوان لڑکے لڑکیوں نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا دوسرا جس کے پاس بھی اپنا پیغام لے کر گئے مثبت ردعمل ہی ملا جس سے ہمارے حوصلے بلند ہوئے اور دلی خوشی ہوئی کہ معاشرے میں اچھے کاموں کو آج بھی پذیرائی ملتی ہے۔

“عطیات جمع کا عمل تئیسویں روزے تک جاری رہے گا اس کے بعد چاند رات تک تمام پیکج مستحق افراد کے گھروں تک خاموشی سے پہنچائے جائیں گے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں