28

مریضوں کا علاج اب آن لائن

پاکستان میں سرکاری سطح پر پہلے ٹیلی میڈیسن سنٹر کا افتتاح 18 اگست کو ہوا

پاکستان میں سرکاری سطح پر پہلے ٹیلی میڈیسن سنٹر کا افتتاح 18 اگست کو ہوا

پنجاب رورل سپورٹ پروگرام وہاڑی کے ڈسٹرکٹ سپورٹ مینجر نے دوردراز علاقوں میں ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کے باعث مریضوں کے علاج کا حل ڈھونڈ لیا ہے۔

وہاڑی وہ پہلا ضلع ہے جہاں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹیلی میڈیسن پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے جو کامیابی سے جاری ہےَ

پنجاب رورل سپورٹ پروگرام وہاڑی کے ڈسٹرکٹ سپورٹ مینجر چودھری توقیر اکرام نے سجاگ کو بتایا کہ ضلع کے تمام 74 بنیادی مراکز صحت پی آر ایس پی کے زیر انتظام کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ضلع کے 74 میں سے نو بنیادی مراکز صحت پر ڈاکٹرز موجود نہیں، جس کی بڑی وجہ بی ایچ یوز کا دور دراز علاقوں میں واقع ہونا ہے جہاں ڈاکٹرز جانے کو تیار نہیں ہوتے۔

”جن بنیادی مراکز صحت پر ڈاکٹرز موجود نہیں وہاں معمولی بیماریوں میں مبتلا افراد کو تو ڈسپنسر دوائی دے دیتے ہیں مگر ایسے مریض جن کو ڈاکٹری معائنے اور مشورے کی ضرورت ہوتی ہے وہ مشورے سے محروم رہتے ہیں۔”

چوہدری توقیر کے مطابق بورے والا کے رہائشی ایک سینئر ڈاکٹر علی اکبر گھمن عالمی ادارہ صحت میں کام کرتے ہیں اور عراق میں مقیم ہیں جو اپنے علاقے کے لوگوں کی بہتری کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔

اگر کوئی ادارہ یہ طریقہ کار سیکھنا چاہے تو وہ یہ سکھانے اور سوفٹ ویئر دینے کو بھی تیار ہیں تاکہ مزید لوگ اس سے استفادہ کر سکیں۔ “ڈسٹرکٹ سپورٹ مینجر”

“جب میری ڈاکٹر علی اکبر گھمن سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اپنا ٹیلی میڈیسن کا آئیڈیا ان کے ساتھ شیئر کیا جس کو سراہتے ہوئے انہوں نے اپنی طرف سے اس منصوبے کے لیے تقریباً اڑھائی لاکھ روپے کا جدید سامان فراہم کیا۔”

جب انہوں نے اپنے اس منصوبے کو پی آر ایس پی کے سی ای او اللہ رکھا آسی اور پراجیکٹ ڈائریکٹر امان اللہ خان کو بتایا تو انہوں نے اسے فوری طور پر عمل درآمد کرنے کی ہدایت دی اور اس منصوبے کو پی آر ایس پی کے زیر انتظام تمام اضلاع میں شروع کرنے کا کہا۔

ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر کے مطابق ابتدائی طور پر یہ منصوبہ بورے والا کے نواحی گاؤں 483 ای کے بی ایچ یو کو ٹیلی میڈیسن کا ریسورس سنٹر اور تحصیل بورے والا کے دور دراز علاقے کوٹ سادات کو کلائنٹ سنٹر بنایا گیا ہے جہاں ایک دن مرد اور دوسرے دن خاتون ڈاکٹر مریضوں کا آن لائن معائنہ کرتی ہیں۔

ٹیلی میڈیسن کے طریقہ کار کے بارے میں بتایا کہ دونوں سنٹرز پر تھری جی انٹرنیٹ، جدید کمپیوٹرز، کیمرے، ساؤنڈ سسٹم جبکہ ریسورس سنٹر پر ایل ای ڈی لگائی گئی ہے تاکہ ڈاکٹرز مریض کا ویڈیو کانفرنس کے ذریعے آن لائن معائنہ کر سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر آن لائن مریض کو چیک کرنے کے بعد دوائی تجویز کرتے ہیں اور اگر کوئی ٹیسٹ کروانے کی ضرورت ہو یا کسی اور ہسپتال میں ریفر کرنا ہو تو بروقت ریفر کیا جاتا ہے۔

نواحی گاؤں 483 ای بی میں ڈی سی او پہلے ٹیلی میڈیسن سنٹر کا افتتاح کر رہے ہیں

نواحی گاؤں 483 ای بی میں ڈی سی او پہلے ٹیلی میڈیسن سنٹر کا افتتاح کر رہے ہیں

ان کے مطابق پاکستان میں پہلے ٹیلی میڈیسن سنٹر نے تین اگست سنہ 2016ء کو کام شروع کیا جس کا باقاعدہ افتتاح 18 اگست کو ڈی سی او علی اکبر بھٹی نے کیا ہے۔

توقیر اکرام کہتے ہیں کہ یہ پہلا تجربہ ہے جسے ہر اس سنٹر تک لے جایا جائے گا جہاں ڈاکٹرز موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ادارہ یہ طریقہ کار سیکھنا چاہے تو وہ اس کو یہ سکھانے اور سوفٹ ویئر دینے کو بھی تیار ہیں تاکہ مزید لوگ اس سے استفادہ کر سکیں۔

ٹیلی میڈیسن ریسورس سنٹر میں کام کرنے والی ڈاکٹر رضیہ ریاض کہتی ہیں کہ اس طریقہ کار سے ان لوگوں کو بے حد فائدہ پہنچ رہا ہے جن کی شہروں تک رسائی نہیں۔

ڈی سی او علی اکبر بھٹی نے سجاگ کو بتایا کہ ضلع کی تمام عوام کو علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرنا ضلعی حکومت کی ذمہ داری ہے جسے پورا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے ٹیلی میڈیسن کے منصوبے کو سراہتے ہوئے ضلع کے مزید پانچ بنیادی مراکز صحت میں شروع کرنے کا اعلان کیا۔

“اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے ضلعی حکومت وسائل مہیا فراہم کرے گی۔”

اب تک ٹیلی میڈیسن سنٹر میں 260 سے زائد مریضوں کا معائنہ کیا جا چکا ہے

اب تک ٹیلی میڈیسن سنٹر میں 260 سے زائد مریضوں کا معائنہ کیا جا چکا ہے

کوٹ سادات کی رہائشی خاتون حاجراں زوجہ اللہ دتہ بتاتی ہیں کہ کوٹ سادات تحصیل بورے والا کا دور دراز علاقہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے گاؤں کے بنیادی مرکز صحت میں عرصہ دراز سے ڈاکٹر موجود نہیں جس وجہ سے انہیں طویل سفر کر کے بورے والا یا وہاڑی جانا پڑتا تھا۔

حاجراں بی بی سمجھتی ہیں کہ گاؤں کے ہسپتال میں جدید طریقہ سے علاج انتہائی احسن اقدام ہے جس سے غریب عوام کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں