رواں سال ڈسرکٹ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ضلع وہاڑی کی کارکردگی تسلی بخش ہے۔

معیشت کو رواں دواں رکھنے میں شہریوں کی جانب سے ادا کیا جانے والا ٹیکس بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اسی سلسلے میں ضلعے کی سطح پر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے دفاتر قائم کئے گئے ہیں جو لوگوں سے ٹیکس کی وصولی کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔

دوسری جانب ادائیگیوں کے حوالے سے شہری لیت و لعل کا مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ ملکی حالات کے پیش نظر کاروبار کی صورت حال زیادہ بہتر نہیں ہے۔

گزشتہ چند سالوں کی نسبت رواں سال ٹیکس جمع کرنے کے عمل میں بہتری آئی ہے اور ضلع وہاڑی کی کا رکردگی بھی نمایاں نظر آ رہی ہے۔

ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر قربان علی شاہد نے بتایا کہ وہ گزشتہ برس دسمبر میں جب وہاڑی تعینات ہوئے تو اس وقت ریکوری کی صورت حال خاصی ابتر تھی۔

انہوں نے بتایا رواں سال ضلع وہاڑی کو ٹیکس ریکوری کی مد میں تنتیس کروڑ اٹھاسی لاکھ پینسٹھ ہزار چار سو انتالیس روپے کا ہدف دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق انیس کروڑ اٹھائیس لاکھ اسی ہزار چار سو ترپن روپے کی ریکوری کر لی گئی ہے۔

قربان علی بتاتے ہیں کہ موجودہ مالی سال ختم ہونے میں ابھی تین ماہ کا عرصہ باقی ہے جس میں مقررہ حدف تک پہنچنے کی پوری کوشش کریں گے۔

گزشتہ سال ٹیکس ریکوری کی مد میں سولہ کروڑ سینتیس لاکھ چونتیس ہزار چھ سو پندرہ روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے گئے تھے جبکہ رواں سال تین ماہ قبل ہی اس سے زائد ریکوری کر لی گئی ہے۔قربان علی شاہد

’’گزشتہ سال ٹیکس ریکوری کی مد میں سولہ کروڑ سینتیس لاکھ چونتیس ہزار چھ سو پندرہ روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے گئے تھے جبکہ رواں سال تین ماہ قبل ہی اس سے زائد ریکوری کر لی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پراپرٹی ٹیکس، موٹر ٹیکس، پروفیشنل ٹیکس کاٹن ٹیکس اور تفریحی ٹیکس کی مد میں ریکوری کی جاتی ہے۔

’’وہاڑی میں کوئی سینما یا تھیٹر نہ ہونے کی وجہ سے تفریحی ٹیکس کی شرح صفر ہے اس کے باوجود ٹیکس کی وصول کا مقررہ ہدف حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ پہلے گولڈن نمبرز کی بولی کے کیے خاطر خواہ کوشش نہیں کی جاتی رہی یہی وجہ ہے کہ اس مد میں دس سے پندرہ ہزار ریکوری ہی ہوتی تھی لیکن اس مرتبہ گولڈن نمبروں کی فروخت میں دلچسپی لیتے ہوئے اس عمل کو بہتر بنایا ہے جس کے نتیجے میں ایک سو چھتیس گولڈن نمبر فروخت کیے جس کے بدلے میں ایک لاکھ اٹھاون ہزار روپے وصول ہوئے۔

قربان علی شاہد نے سجاگ کو بتایا کہ ٹیکس ادائیگی کے حوالے سے تاحال صورت حال پیدا نہیں ہو سکی جو بیرون ممالک میں موجود ہے ۔ترقی یافتہ ممالک میں شہری رضا کارانہ طور پر خود ہی ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں زیادہ تر کاروائی کرنا پڑتی ہے۔

انجمن شہریاں کے صدر ملک تنویر بھارہ کا کہنا ہے کہ ٹیکس ادائیگی کے حوالے سے جو خدشات عوام میں پائے جاتے ہیں اس کی بری وجہ ہر چیز میں ٹیکس کا شامل کیا جانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اشیائے ضروریہ ، بجلی، گیس، گھر، گاڑی، دوکان ہر چیز پر حکومت ٹیکس وصول کرتی ہے لیکن عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے کبھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔

ان کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں شہری رضا کارانہ طور پر اس لیے ٹیکس ادا کرتے ہیں کیونکہ وہاں صحت تعلیم اور دیگر سہولیات با آسانی میسر آتی ہیں۔

سماجی رہنما چودھری فاروق نے بتایا کہ ٹیکس دینے کو ہر شہری تیار ہے لیکن با اثر افراد اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے ٹیکس معاف کروا لیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ صرف متوسط طبقے کے لوگوں ہی سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اس کے علاوہ ایکسائز میں جو کرپشن کا بازار گرم ہے اس بات کا بھی سب کو اندازہ ہے لیکن ا کے خلاف کوئی بھی ایکشن نہیں لیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ٹیکس ہر شہری سے میرٹ پر لیا جائے تو کسی لوگ اسے زیادہ خوش اخلاقی سے ادا کریں گے۔

وہاڑی میں ٹیکس وصولی تو ریکارڈ ہوئی جس سے سرکاری خزانے کو آسودگی نصیب ہو گی لیکن شہری اس حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔

حکومت کو چاہئے کہ ٹیکس وصولی کے نظام کو شفاف اور بہتر بنائے تاکہ سرکاری خزانے کو فائدے کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی ٹیکس کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔