65

چاندنی پارک کی حالت زار

خواتین کی آبادی ہماری ملک کی نصف آبادی سے زیادہ ہے اور اس دور میں تفریح کی سہولیات خواتین کا بھی بنیادی حق ہے۔

وہاڑی کو پارکوں کا شہر کہا جاتا ہے مگر خواتین کے نام پر مختص واحد چاندنی پارک کی حالت انتہائی ابتر ہو چکی ہے اور یہ پارک بلدیہ کی عدم توجہی، وسائل کی عدم دستیابی اور عملے کی کمی کی وجہ سے کسی اجڑے گلشن کا منظر پیش کررہا ہے۔

بلدیہ سے ملنے والی معلومات کے مطابق جناح روڈ پر سنہ 1987ء میں چیئرمین بلدیہ چوہدری ظفر اقبال کے دور میں خواتین کے لیے مخصوص چاندنی پارک قائم ہوا جس کا باقاعدہ افتتاح  6 مارچ 1987ء کو اس وقت کے ڈپٹی کمشنر ضیاالرحمن نے کیا تھا۔

چاندنی پارک کا کل رقبہ آٹھ ایکڑ پر محیط ہے جس میں اب لیڈیز کلب، لیڈیز جم اور لیڈیز آڈیٹوریم بھی بن چکے ہیں۔

ضلعی ہیڈکوارٹر بننے کے بعد شہر کی تعمیر و ترقی میں سابق ڈپٹی کمشنر ضیاالرحمن کا کردار ناقابل فراموش ہے۔

ڈسٹرکٹ منزل یوتھ فورم کی نائب صدر مصباح قندیل نے سجاگ کو بتایا کہ چاندنی پارک خواتین کی واحد تفریح گاہ ہے مگر اب یہ کسی بھوت بنگلے کا منظر پیش کرنے لگ گیا ہے۔

پارک میں لاکھوں روپے مالیت کا کنسٹرکشن سامان بکھرا پڑا ہے

پارک میں لاکھوں روپے مالیت کا کنسٹرکشن سامان بکھرا پڑا ہے

مصباح قندیل نے  مزید بتایا کہ یہ پارک جب آباد ہوا تھا تو یہاں خواتین کی بڑی تعداد دن اور شام کے اوقات اپنے بچوں کے ساتھ گھومنے کے لیے آتی تھیں مگر اب یہاں خواتین کی آمد نہ ہونے کے برابر ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب اس پارک کی حالت انتہائی ابتر ہو چکی ہے گھاس سوکھ چکا ہے وسیع و عریض لان اجڑ چکے ہیں اور پانی نہ ملنے کی وجہ سے پارک میں لگائے گئے آرائشی پودے بھی سوکھ رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ شام کے وقت پارک میں لائٹ کا کوئی انتظام نہیں ہے جس کی وجہ سے خواتین یہاں آنے سے کتراتی ہیں کیونکہ اندھیرے میں یہاں آنا کسی کے لئے محفوظ نہیں۔

پارک میں گندگی کے ڈھیر

پارک میں گندگی کے ڈھیر

سماجی کارکن ڈاکٹر آسیہ نسیم نے بتایا کہ خواتین کی واحد تفریح گاہ کو صرف فلاور شو اور شادیوں کی تقریبات کے انعقاد کے لیے مختص کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس پارک کی تباہ حالی میں زیادہ کردار یہاں ہونے والی شادیوں نے بھی کیا ہے کیونکہ شہری کچھ عرصہ سے دیگیں بھی اسی پارک میں پکانے لگ گئے ہیں جس کی وجہ سے گھاس جل جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شادیوں اور دیگر پروگراموں کی پارکنگ اور ٹینٹ لگانے اور ان تقریبات میں لوگوں کے آنے جانے سے یہاں لگایا گیا گھاس اور پودے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور بلدیہ حکام سے مطالبہ کیا کہ چاندنی پارک کی خوبصورتی کو بحال کیا جائے تاکہ خواتین یہاں سیر و تفریح کے لیے آزادانہ طریقے سے آ سکیں.

بلدیہ کے اسسٹنٹ فلوریکلچر سپروائزر محمد شریف نے بتایا کہ پارک کو پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے کیونکہ پارک میں نصب ٹیوب ویل 20 سال سے بند پڑا ہےاور نہری پانی صرف چار سے پانچ گھنٹے ہے جس سے آٹھ ایکڑ کے پارک کو سیراب کرنا ناممکن ہے۔

نوٹس کے باوجود پارک میں شادی و دیگر تقریبات جاری رہتی ہیں

نوٹس کے باوجود پارک میں شادی و دیگر تقریبات جاری رہتی ہیں

انہوں نے بتایا کہ پورے شہر کے پارکوں کی دیکھ بھال کے لیے صرف دو بیلدار ہیں اور عملے کی شدید کمی ہے سنہ 1990ء کے بعد پابندی کے سبب کوئی نئی بھرتی نہیں ہوئی ہے۔

تحصیل میونسپل کمیٹی کے ایک اہلکار محمد شریف کے مطابق محدود اور دستیاب وسائل سے ہی پارکوں کی دیکھ بھال کا کام چلایا جا رہا ہےجب تک عملہ پورا نہیں ہوتا پارکوں کے نظام میں بہتری نہیں آ سکتی۔

بلدیہ وہاڑی کے چیف آفیسر راؤ نعیم خالد نے سجاگ کو بتایا کہ سنہ 1990ء سے بلدیہ میں نئی بھرتیوں پر پابندی ہے جس کی وجہ سے عملے کی شدید کمی ہے۔

ضلعی حکومتوں کے سابقہ ادوار میں شہر کی خوبصورتی کے لیے پارک تو بنائے گئے ہیں مگر ان کی دیکھ بھال کے لیے عملہ کی بھرتی نہیں کی گئی۔

انہوں نے بتا یا کہ چاندنی پارک میں کوئی پروگرام یا شادی کی تقریبات پر کوئی پابندی نہیں ہے اس کو استعمال کرنے کے لیے دس ہزار روپے فیس مقرر ہے۔

عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کو اس پارک کے لئے بہتر اقدامات کرنے چاہئیں اور یہ پارک صرف خواتین کے لئے بنایا گیا تھا لیکن خواتین اب اس پارک میں جانے سے کتراتی ہیں لہذا اسے خواتین کے لئے محفوظ بنایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں