کامسیٹس وہاڑی کے گولڈمیڈلسٹ طلبہ کے ساتھ ایک نشست

کامسٹیس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی وہاڑی میں گزشتہ دنوں 101 ویں کانووکیشن کی تقریب ہوئی جس میں مختلف مضامین میں پاس آؤٹ ہونے والے طلباء و طالبات کو ڈگریاں دی گئیں۔

کنٹرولر امتحانات وہاڑی کیمپس محمد صفدر نے بتایا کہ 31 مارچ کو ہونے والے 101 ویں کانووکیشن میں مختلف ڈیپارٹمنٹس کے کل تین سو اٹھائیس طلباء و طالبات نے ڈگریاں حاصل کیں۔

انہوں نے بتایا کہ مختلف مضامین میں کل سولہ طلباء و طالبات نے گولڈ میڈل حاصل کئے جن میں تین طلبہ ایسے ہیں جنہوں نے تمام کیمپسز کے طلبہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے گولڈ میڈل حاصل کیے۔

محمد صفدر کے مطابق ایم سی ایس کی طالبہ اقراء عابد، ایم بی اے کے طالب علم غلام مرتضیٰ اور ایم اے انگریزی کی طالبہ زبیریہ امین نے کامسیٹس کے آٹھ کیمپس میں سے پہلی پوزیشن کے ساتھ گولڈ میڈل حاصل کیے جبکہ ایم بی اے کے شکیل اختر اور محمد کاشف اسلم نے سلور میڈل حاصل کیے۔

حسن اتفاق ہے کہ سونے کا تمغہ حاصل کرنے والی اقراء عابد اور زبیریہ امین دونوں کا تعلق تحصیل بوریوالہ سے ہے اور انہوں نے ایک ساتھ ہی گرلز ہائی سکول بوریوالہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا۔

 سونے کا تمغہ حاصل کرنے والی اقراء عابد اور زبیریہ امین دونوں کا تعلق تحصیل بوریوالہ سے ہے۔

سونے کا تمغہ حاصل کرنے والی اقراء عابد اور زبیریہ امین دونوں کا تعلق تحصیل بوریوالہ سے ہے۔

زبیریہ امین نے سجاگ کو بتایا کہ انہوں نے یہ اعزاز حاصل کرنے کے انتہائی لگن اور محنت سے پڑھائی کی لیکن ان کی کامیابی میں ان کے اساتذہ کا کردار مثالی رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مستقبل میں وہ سی سی ایس کرنا چاہتی ہیں جس کے لیے انگریزی میں مہارت ضروری ہوتی ہے اسی لیے انہوں نے یہ شعبہ اپنایا ہے اور اگر موقع ملا تو فارن سروسز میں جاؤں گی۔

انہوں نے طلباء و طالبات کو پیغام دیا کہ ہمیشہ منصوبہ بندی کے ساتھ آگے چلیں اور وہی مضمون پڑھیں جس میں دلچسپی ہو۔

گولڈ میڈلسٹ اقراء عابد کا کہنا ہے کہ وہ ایک عام نمبروں سے پاس ہونے والی طالبہ تھیں لیکن کامسٹیس کے ایک لیکچرار علی ہاشمی کے ایک فقرے نے ان کی سوچ بدل ڈالی۔

انہوں نے ایک عام سا فقرہ بولا تھا کہ ’’محنت کرے تو ہر انسان ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے‘‘ بس اسی دن سے محنت کرنے کی ٹھان لی اور آج تمام کیمپس میں سے گولڈ میڈل حاصل کرنے پر بے حد خوش ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ان دنوں میں اسلام آباد میں ایک پراجیکٹ پر کام کر رہی ہیں جس میں اینڈرائیڈ موبائل کے لیے ایک ایپلیکیشن تیار کر رہی ہیں اور جلد ہی کسی اچھے سافٹ ویئر ہاؤس میں اپنی قابلیت کے جوہر دکھائیں گی۔

کیمپس ڈائریکٹر ڈاکٹر خیر الزماں نے سجاگ سے گفتگو میں بتایا کہ انہیں انتہائی ماہر اساتذہ ملے جن کی وجہ سے ان کے انسٹیٹیوٹ کو چار چاند لگ گئے ہیں اور یہاں پڑھنے والے طلبہ ناصرف کیمپس بلکہ دیگر کیمپسز میں بھی نمایاں پوزیشنز حاصل کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق یونیورسٹی کے ایک سو ستر لیکچرار میں سے پینسٹھ پی ایچ ڈی ڈاکٹرز ہیں جن کی خدمات سے طلباء و طالبات فیض یاب ہو رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب کیمپس کا آغاز کیا تھا تو دو سو پچاس سٹوڈنٹس تھے جن کی تعداد اب بڑھ کر ڈھائی ہزار تک پہنچ چکی ہے اور کامسیٹس سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔