گاڑیوں کی نیلامی کروانا میرے دائرہ کار میں نہیں

وہاڑی میں محکمہ صحت کو سرکاری ہسپتال میں ادویات کی ضرورت ہو، وارڈز میں ایئرکنڈیشنڈ لگوانے کی ضرورت ہو یا کوئی اور کسی قسم کی مدد کی ضرورت، شہر کی مرکزی انجمن تاجران نے ہر قسم کا تعاون کیا ہے۔ “ارشاد حسین بھٹی”

ارشاد حسین بھٹی مرکزی انجمن تاجران کے صدر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ انہیں یہ جان کر شدید مایوسی ہوئی جب انہیں علم ہوا کہ محکمہ صحت کے زیر استعمال رہنے والی کئی گاڑیاں ناکارہ کر کے کھڑی کر دی گئی ہیں۔

“اگر کسی شخص کے ذاتی استعمال میں کوئی مشینری یا گاڑی ہو اور وہ استعمال کے قابل نہ رہے تو ایسی اشیاء کو فروخت کر کے مزید کچھ رقم ملا کر نئی چیز حاصل کر لیتا ہے، لیکن ناکارہ اشیاء کو ضائع نہیں کرتا۔”

جبکہ دوسری جانب وہاڑی کے سرکاری اداروں میں کئی گاڑیوں کو پرواہ نہ کرتے ہوئے کھلے آسمان تلے ناکارہ کر کے چھوڑ دیا گیا ہے جس سے عوام کے ٹیکسز سے خریدی گئی کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں مالی نقصان کا باعث بن رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سرکاری محکموں کے حکام کو چاہیئے کہ وہ اپنی استعمال میں آنے والی گاڑیوں و دیگر اشیاء کی حفاظت کرنے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

سرکاری وغیر سرکاری اداروں کے افسران اور محکموں کو عوام تک بنیادی سہولیات پہنچانے کے لیے گاڑیاں فراہم کی جاتی ہیں تاکہ افسران اپنے فرائض سرانجام دینے کے لیے بروقت پہنچ سکیں۔

گاڑیوں کی صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ اکثر کے پارٹس چوری ہو گئے ہیں اور اب محض گاڑیوں کے ڈھانچے ہی نظر آتے ہیں۔ “ملازمین محکمہ صحت”

تاہم سرکار کی جانب سے دی جانے والی گاڑیاں جب تک درست حالت میں رہیں اس وقت تک تو سڑکوں پر اہلکاروں کے پاس نظر آتی رہی لیکن جیسے ہی گاڑیاں خراب ہونا شروع ہوئیں تو مرمت یا نیلام کروانے کی بجائے دفاتر میں بے یارومدد گار کھڑی کر دی گئی۔

سرکار کے قواعد وضوابط کے مطابق سرکاری گاڑی ایک لاکھ کلومیٹر چلنے کے بعد مزید کام کے قابل نہیں رہتی، تاہم محکموں میں گاڑیوں کی کمی کے باعث ایک لاکھ کلومیٹر چلنے کے بعد بھی کسی نہ کسی طرح زیر استعمال رہتی ہیں حتی کہ گاڑیاں ناکارہ ہو جاتی ہیں۔

لکھاری کے مطابق اس وقت وہاڑی کے محکمہ صحت کے ذیلی ادارے ایم این ایچ سی (Mission Neighborhood Health Center) میں تقریباً دس، محکمہ زراعت کے دفتر میں چار بلڈوزر اور محکمہ شاہرات کے دفتر میں پانچ سے چھ مختلف ناکارہ گاڑیاں موجود ہیں۔

محکمہ صحت کے دو ملازمین نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جب گاڑیاں کھڑی کی جاتی ہیں تو ان میں کوئی زیادہ خرابیاں نہیں ہوتی، محض نئی گاڑیوں کے حصول کے لیے ان کو ناکارہ ظاہر کر دیا جاتا ہے۔

ملازمین کے مطابق اگر اسی وقت گاڑیوں کی نیلامی کروا دی جاتی تو ایک خطیر رقم محکمے کو مل سکتی تھی لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر 15 سال سے زائد عرصے سے کوئی نیلامی نہیں کروائی جا سکی۔

محکمہ زراعت کے چار بلڈوزر ناکارہ کھڑے ہیں

محکمہ زراعت کے چار بلڈوزر ناکارہ کھڑے ہیں

“اب گاڑیوں کی صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ اکثر کے پارٹس چوری ہو گئے ہیں اور اب محض گاڑیوں کے ڈھانچے نظر آتے ہیں۔”

ان کے مطابق ای ڈی او ہیلتھ کی سرکاری کوٹھی میں درجن سے زیادہ موٹر سائیکلز ناکارہ موجود ہیں۔

محکمہ صحت کے پاس کھڑی ناکارہ گاڑیوں کے حوالے سے ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر افضل بشیر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہاڑی میں کھڑی گاڑیاں ان کی تعیناتی سے پہلے کی کھڑی ہیں۔

انہوں نے چارج سنبھالتے ہی ان گاڑیوں کی صورتحال سے اعلیٰ حکام کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا تھا۔

ای ڈی او ہیلتھ کا کہنا ہے کہ محکمے کو ملنے والی گاڑیاں وزارت صحت کی جانب سے فراہم کی گئی ہیں، گاڑیوں کی نیلامی کروانا ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے، اگر کسی گاڑی یا مشینری کی نیلامی کرنی ہو تو وہ بھی وزارت صحت ہی کرواتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اپنی تعیناتی کے پورے دور میں نہ کوئی نئی گاڑی منگوائی ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت محسوس کی ہے، خرابی کی صورت میں پہلے سے موجود گاڑی کی گاہے بگاہے مرمت کروا کر استعمال کے قابل بنا رکھا ہے۔

“محکمہ کے ملازمین اور افسران جن کے زیر استعمال گاڑیاں ہیں ان کو بھی سختی سے آرڈر جاری کر رکھے ہیں کہ گاڑی کی ہر طرح کی حفاظت ان کے ذمہ ہے، غفلت کی صورت میں گاڑی کے نقصان کے ذمہ دار بھی وہ خود ہونگے۔”

محکمہ شاہرات کے ایس ڈی او غلام نبی کا کہنا ہے کہ انہوں نے آج ہی چارج سمبھالا ہے، ان کے دفتر میں کھڑی ناکارہ گاڑیوں کے حوالے سے کچھ نہیں بتا سکتے۔

زراعت کے دفتر میں کھڑے بلڈوزر کے حوالے سے جب ای ڈی او زراعت چوہدری مشتاق علی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ محکمہ زراعت کے دفتر میں کھڑے بلڈوزر کی نیلامی رواں سال 30 دسمبر سے پہلے ہو جائے گی۔

ڈی سی او علی اکبر بھٹی سے جب ضلع کے مختلف اداروں میں کھڑی ناکارہ گاڑیوں کے حوالے سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ناکارہ گاڑیوں کا ان کے علم میں ہے وہ اس حوالے سے پنجاب حکومت کو لکھ چکے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ گاڑیوں کی نیلامی کے لیے فوری طور پر اخبارات میں اشتہارات دیئے جائیں اور پوری شفافیت کے ساتھ موصول ہونے والی رقم اداروں کی ضروریات کے مطابق استعمال کی جائے۔