62

علاج ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے جس کے لیے حکومت کی جانب سے ہر سطح پر ہسپتال بنائے گئے ہیں وہاڑی میں بھی گزشتہ تین دہائیوں سے ضلع بھر کی عوام کو صحت کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال موجود ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملکی حالات میں تغیر آتا گیا اور امن و امان کی صورت حال خراب کرنے کے لیے انتہا پسند عناصر نے دہشت گردی کی کاروائیاں شروع کر دیں جس کے بعد ہر ادارے میں مناسب سکیورٹی کے اقدامات کیے گئے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال جہاں روزانہ ہزاروں لوگ علاج معالجے کی غرض سے آتے ہیں وہاں سکیورٹی کے انتظامات نا ہونے برابر ہیں۔ہسپتال کے کل چار دروازے ہیں جن میں سے دو سکیورٹی کی وجہ سے بند کر دیے گئے جبکہ باقی دو دروازوں پر بھی کسی قسم کی چیکنگ کا نظام نہیں ہے۔علاج کی غرض سے آئے بستی شینہ مار کے رہائشی محمد اظہر نے بتایا کہ ہسپتال میں صحت کی سہولیات کسی حد تک تسلی بخش ہیں لیکن سکیورٹی کا کوئی خاص انتظام نہیں جس کی وجہ سے خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں کیونکہ ملک کے مختلف شہروں کے ہسپتالوں میں خود کش دھماکوں کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بلاشبہ وہاڑی میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا لیکن انتظامیہ کو مکمل حفاظتی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ ہسپتال میں چالیس سے زائد اہلکاروں کی ضرورت ہے لیکن صرف سولہ اہلکار دیے گئے ہیں اور انہیں بھی ایک ماہ کے لیے عارضی طور پر رکھا گیا۔”ڈاکٹر محمد فاروق” ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد فاروق نے سجاگ کو بتایا کہ انہیں تعینات ہوئے چار ماہ کا عرصہ ہوا ہے اور تعیناتی کے بعد انہوں نے سکیورٹی کی کمی شدت سے محسوس کی جس کے بارے میں ڈپٹی کمشنر وہاڑی سے بھی بات چیت بھی کی۔انہوں نے بتایا کہ سول ڈیفنس کے اہلکاروں کو سکیورٹی کی ذمہ داری دینے کے بارے فیصلہ کیا گیا ہے۔ڈاکٹر فاروق کے مطابق چالیس سے زائد اہلکاروں کی ضرورت ہے جنہیں تین شفٹوں میں تقسیم کیا جانا تھا لیکن انہیں صرف سولہ اہلکار دیے گئے جنہیں ایک ماہ کے لیے عارضی طور پر رکھا گیا اور ساتھ یہ بات بھی بتائی کہ ان کی کارکردگی تسلی بخش ہونے کی صورت میں باقاعدہ نوٹیفکیشن کے ذریعے انہیں ہسپتال میں تعینات کر دیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ آٹھ اہلکار دن اور آٹھ ہی رات کے وقت ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں ایک تو ان کی تعداد ناکافی ہے اس کے علاوہ سول ڈیفنس کے اہلکار بہتر انداز میں تربیت یافتہ نہیں ہیں اس لیے ان سے سکیورٹی کا کام نہیں لیا جا رہا بلکہ وارڈز میں غیر متعلقہ افراد کو روکنے اور غلط پارکنگ سے روکنے سمیت اس قسم کے کام لیے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اکثر اوقات لیبر روم، گائنی وارڈ اور آپریشن تھیٹر میں خواتین برہنہ حالت میں پڑی ہوتی ہیں جبکہ مرد حضرات بلا روک ٹوک داخل ہوتے ہیں جنہیں سول ڈیفنس عملے کے ذریعے ہی روکا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر فاروق نے بتایا کہ حکومت پنجاب کو سکیورٹی کے حوالے سے سٹاف کی ثمری دو ماہ پہلے ہی بنا کر بھیج دی گئی ہے۔ ڈسٹرکٹ چیف وارڈن سول ڈیفنس وہاڑی شیخ خالد مسعود ساجد نے بتایا کہ سول ڈیفنس کے اہلکار بہترین تربیت یافتہ ہیں اور ان کے پاس چالیس سے کہیں زیادہ لوگ موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ سکیورٹی کی غرض سے باہر سے اہلکار منگوانے کی بجائے انہیں تعینات کرے کیونکہ یہ لوگ بہتر مہارت رکھنے کے باوجود بے روزگار ہیں۔سول ڈیفنس اہلکار محمد احسان اکرم کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ تین ماہ سے ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں ڈیوٹی بھلے زیادہ ہے لیکن بیروزگاری سے یہ کام بہتر ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کی خدمت کر کے خوشی محسوس ہوتی ہے امید ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ڈیوٹی کا دورانیہ کم اور تنخواہ میں اضافہ ہو گا جس کے لیے ایمانداری سے ڈیوٹی انجام دے رہا ہوں۔احسان اکرم کا کہنا ہے کہ تاحال غیر یقینی کی صورت حا ل ہے اگر انتظامیہ کی جانب سے نوٹفکیشن جاری کر کے مستقل کر دیا جائے تو کام مزید بہتر ہو گا۔ہسپتال میں سکیورٹی کے مسائل ابھی تک موجود ہیں انتظامیہ اس معاملے میں جس حد تک سنجیدہ ہے اس کا اندازہ آئندہ چند روز میں ہو جائے گا بہر حال عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے جس کے لیے ٹھوس اقدامات وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔

علاج ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے جس کے لیے حکومت کی جانب سے ہر سطح پر ہسپتال بنائے گئے ہیں وہاڑی میں بھی گزشتہ تین دہائیوں سے ضلع بھر کی عوام کو صحت کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال موجود ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملکی حالات میں تغیر آتا گیا اور امن و امان کی صورت حال خراب کرنے کے لیے انتہا پسند عناصر نے دہشت گردی کی کاروائیاں شروع کر دیں جس کے بعد ہر ادارے میں مناسب سکیورٹی کے اقدامات کیے گئے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال جہاں روزانہ ہزاروں لوگ علاج معالجے کی غرض سے آتے ہیں وہاں سکیورٹی کے انتظامات نا ہونے برابر ہیں۔

ہسپتال کے کل چار دروازے ہیں جن میں سے دو سکیورٹی کی وجہ سے بند کر دیے گئے جبکہ باقی دو دروازوں پر بھی کسی قسم کی چیکنگ کا نظام نہیں ہے۔

علاج کی غرض سے آئے بستی شینہ مار کے رہائشی محمد اظہر نے بتایا کہ ہسپتال میں صحت کی سہولیات کسی حد تک تسلی بخش ہیں لیکن سکیورٹی کا کوئی خاص انتظام نہیں جس کی وجہ سے خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں کیونکہ ملک کے مختلف شہروں کے ہسپتالوں میں خود کش دھماکوں کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بلاشبہ وہاڑی میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا لیکن انتظامیہ کو مکمل حفاظتی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

ہسپتال میں چالیس سے زائد اہلکاروں کی ضرورت ہے لیکن صرف سولہ اہلکار دیے گئے ہیں اور انہیں بھی ایک ماہ کے لیے عارضی طور پر رکھا گیا۔”ڈاکٹر محمد فاروق”

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد فاروق نے سجاگ کو بتایا کہ انہیں  تعینات ہوئے چار ماہ کا عرصہ ہوا ہے اور تعیناتی کے بعد انہوں نے سکیورٹی کی کمی شدت سے محسوس کی جس کے بارے میں ڈپٹی کمشنر وہاڑی سے بھی بات چیت بھی کی۔

انہوں نے بتایا کہ سول ڈیفنس کے اہلکاروں کو سکیورٹی کی ذمہ داری دینے کے بارے فیصلہ کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر فاروق کے مطابق چالیس سے زائد اہلکاروں کی ضرورت ہے جنہیں تین شفٹوں میں تقسیم کیا جانا تھا لیکن انہیں صرف سولہ اہلکار دیے گئے جنہیں ایک ماہ کے لیے عارضی طور پر رکھا گیا اور ساتھ یہ بات بھی بتائی کہ ان کی کارکردگی تسلی بخش ہونے کی صورت میں باقاعدہ نوٹیفکیشن کے ذریعے انہیں ہسپتال میں تعینات کر دیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ آٹھ اہلکار دن اور آٹھ ہی رات کے وقت ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں ایک تو ان کی تعداد ناکافی ہے اس کے علاوہ سول ڈیفنس کے اہلکار بہتر انداز میں تربیت یافتہ نہیں ہیں اس لیے ان سے سکیورٹی کا کام نہیں لیا جا رہا بلکہ وارڈز میں غیر متعلقہ افراد کو روکنے اور غلط پارکنگ سے روکنے سمیت اس قسم کے کام لیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اکثر اوقات لیبر روم، گائنی وارڈ اور آپریشن تھیٹر میں خواتین برہنہ حالت میں پڑی ہوتی ہیں جبکہ مرد حضرات بلا روک ٹوک داخل ہوتے ہیں جنہیں سول ڈیفنس عملے کے ذریعے ہی روکا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر فاروق نے بتایا کہ حکومت پنجاب کو سکیورٹی کے حوالے سے سٹاف کی ثمری دو ماہ پہلے ہی بنا کر بھیج دی گئی ہے۔

ڈسٹرکٹ چیف وارڈن سول ڈیفنس وہاڑی شیخ خالد مسعود ساجد نے بتایا کہ سول ڈیفنس کے اہلکار بہترین تربیت یافتہ ہیں اور ان کے پاس چالیس سے کہیں زیادہ لوگ موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ سکیورٹی کی غرض سے باہر سے اہلکار منگوانے کی بجائے انہیں تعینات کرے کیونکہ یہ لوگ بہتر مہارت رکھنے کے باوجود بے روزگار ہیں۔

سول ڈیفنس اہلکار محمد احسان اکرم کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ تین ماہ سے ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں ڈیوٹی بھلے زیادہ ہے لیکن بیروزگاری سے یہ کام بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کی خدمت کر کے خوشی محسوس ہوتی ہے امید ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ڈیوٹی کا دورانیہ کم اور تنخواہ میں اضافہ ہو گا جس کے لیے ایمانداری سے ڈیوٹی انجام دے رہا ہوں۔

احسان اکرم کا کہنا ہے کہ تاحال غیر یقینی کی صورت حا ل ہے اگر انتظامیہ کی جانب سے نوٹفکیشن جاری کر کے مستقل کر دیا جائے تو کام مزید بہتر ہو گا۔

ہسپتال میں سکیورٹی کے مسائل ابھی تک موجود ہیں انتظامیہ اس معاملے میں جس حد تک سنجیدہ ہے اس کا اندازہ آئندہ چند روز میں ہو جائے گا بہر حال عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے جس کے لیے ٹھوس اقدامات وقت کی  اہم ضرورت بن چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں