ویکسین کی فراہمی میں وہاڑی کا پہلا نمبر

وہاڑی میں سانپ کے ڈسے اور کتے کاٹے کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی عوامی شکایات کے پیش نظر ضلعی محکمہ صحت کی طرف سے ویکسین کی بر وقت فراہمی کے لیے  اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

واضع رہے جو ضلعی محکمہ صحت کے مطابق باقی اضلاع میں ویکسین کی کمی ہے جبکہ وہاڑی واحد ضلع  ہے جہاں ویکسین موجود ہے۔

سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر شعیب الرحمن گورمانی نے بتایا کہ ویکسین کی دستیابی کے باعث  گزشتہ چھ ماہ میں سانپ اور کتے کے  کاٹے کی وجہ سے کوئی موت واقع نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں سیلاب کے آثار نمایاں ہیں جس کے لیے خاص طور پر سانپ کاٹے کی وائرس کا انتظام کر لیا گیا ہے۔

ضلعی ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق ہر ماہ تقریباََ  آٹھ سو انجکشن استعمال ہو جاتے ہیں۔ یکم جنوری سے مئی 2017 تک ہسپتال میں ایک ہزار 15 مریضوں کو تین ہزار 577 ڈوز فراہم کی گئیں اور تاحال 201 وائل سٹاک میں موجود ہیں۔

کتے کے کاٹے مریضوں کے اعداد و شمار جنوری تا مئی2017

ضلعی  ہسپتال کا سالانہ بجٹ بارہ کروڑ روپے ہے جس میں سے 25 فیصد لوکل پرچیز کے لیے مختص ہے۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ایمرجنسی وارڈ میں ڈیوٹی ڈاکٹر محمد وسیم بتاتے ہیں کہ ضرورت کے مطابق مارچ سے لوکل پرچیزکے ذریعے ویکسین خرید لی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نارمل کتے سے متاثر شخص کو مختلف وقفوں کے ساتھ تین جب کہ باؤلے کتے سے متاثر کو پانچ انجکشن لگائے جاتے ہیں جن کی ترتیب پہلا،تیسرا،دسواں دن اس کے ایک ماہ پھر تین ماہ ہے۔

پنجاب رورل سپورٹ پروگرام  کے ضلعی انچارج  محمد توقیر اکرام کا کہنا ہے کہ ضلع بھر میں 74 بنیادی مرکز صحت پر سانپ اور کتے کاٹے کی ویکسین موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات ہمیں دیگر اضلاع سے منفرد کرتی ہے کیونکہ اگر دیکھا جائے تو بڑے بڑے شہروں میں موجود بنیادی مرکز صحت  اس سہولت سے محروم ہیں۔

سانپ کے ڈسے مریضوں کے اعداد و شمار جنوری تا مئی 2017

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ویکسین کا وافر سٹاک موجود ہے جو آئندہ سال کے لیے بھی کافی ہے لیکن چونکہ یہ عام میڈیسن نہیں ہے اس لیے اس کی سٹوریج اور ٹرانسفر کے لیے بھی انتہائی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے ویکسین نہ ملنے کی شکایات کے حوالے سے بتایا کہ شکایت کی متعدد بار انکوائری کی گئی لیکن شکایت صرف ذاتی مخالفت کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔

چک نمبر 5 ڈبلیو بی کے رہائشی محمد شفیق ڈوگر نے بتایا کہ انہیں منہ اندھیرے اور رات گئے اکثر کھیتوں میں کام کرنے یا پانی لگانے کے لیے جانا ہوتا ہے لیکن چونکہ علاقے میں آوارہ کتوں کی بھرمار ہے اس لیے متعدد دفعہ ان کے حملے کا شکار ہوا۔

وہ بتاتے ہیں کہ جب بھی کتے نے کاٹا فوری ہسپتال کا رخ کیا چونکہ میں نے ہسپتال ایمرجنسی میں سانپ اور کتے کاٹے کی ویکسین دستیابی کے بورڈ کئی بار پڑھے تھے اس لیے  مجھے امید تھی کہ علاج بہتر  ہو گا اور ایسا ہی ہوا۔

ایک سروے کے مطابق 2010 میں 97 ہزار کتے کاٹے کے کیسز سامنے آئے تھے۔ اس کے بعد ان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سانپ کے کاٹے  متاثرہ شخص کو پریشان ہونے اور حرکت کرنے سے پچایا جائے کیونکہ پریشانی میں دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے جس سے سانپ کے ڈنگ کا اثر خون کے ذریعے تیزی سے جسم میں پھیل جاتا ہے۔

خیال رہے جو ڈبلیو ایچ او کے تعاون سے پراونشل ہیلتھ اتھارٹی سانپ کاٹے کے بچاؤ کے پراجیکٹ پر کام کر ر ہی ہے جس میں محکمہ لائیو سٹاک،ویٹرنری اور ریبیز کنٹرول بھی شامل ہے۔