61

وی ایچ 327: کاٹن ریسرچ اسٹیشن وہاڑی کا شاہکار

ضلع وہاڑی کو کپاس کی پیداوار کے حوالے سے ملک بھر میں ایک خاص مقام حاصل ہے اور یہاں کپاس پر تحقیق کے لیے قائم کیا گیا ادارہ ‘کاٹن ریسرچ اسٹیشن’ کپاس کی بہتر پیداوار کی حامل اقسام تیار کر کے کسانوں کو فراہم کرتا ہے۔

گزشتہ چند سالوں میں ملک بھر میں کپاس کی پیداوار میں خاطر خواہ کمی آئی جس کی بہت سی وجوہات میں سے ایک کپاس کی بہتر اقسام کی عدم دستیابی بھی ہے۔

کاٹن ریسرچ اسٹیشن وہاڑی نے کپاس کی بہتر اقسام تیار کرنے کے لیے مختلف تجربات کیے اور بی ٹی ورائٹی وی-ایچ 327 تیار کی جو دیگر اقسام کے مقابلے میں بہتر اور زیادہ پیداوار و دیگر خصوصیات کی وجہ سے خاصی مقبول رہی۔

کپاس کی اس ورائٹی کو بنانے کا سہرا وہاڑی کے ماہرِ کپاس ڈاکٹر غلام سرور اور ان کی ٹیم کے سر ہے۔

ڈاکٹر غلام سرور بتاتے ہیں کہ اس بیج کی تیاری کے پہلے مرحلے میں انہوں نے علاقے میں تیزی سے بڑھتے ہوئے مسائل اور کسانوں کی ضروریات کو دیکھا اور سنہ 2010ء میں اس پراجیکٹ پر کام شروع کیا۔

ان کے مطابق وی ایچ 327 کاٹن ریسرچ اسٹیشن ہی کی تیار شدہ اقسام وی ایچ 289 اور وی ایچ 291 کا کراس بریڈ ہے۔

2015-16 میں وی ایچ 327 کی پیداوار 25 سے 26 من فی ایکڑ ریکارڈ کی گئی جبکہ 2016ء میں ملکی سطح کے پیداواری مقابلے میں وی ایچ 327 مقابلے میں شامل کل تریسٹھ اقسام میں سے پہلے نمبر پر رہی۔

انہوں نے بتایا کہ اس ورائٹی کو تیار کرنے میں چھ سال کا عرصہ لگا اور 2016ء میں اس کی منظوری دے دی گئی ہے۔

“اس ورائٹی کو منظور کروانے کے لیے سب سے پہلے ملکی سطح پر پیداوار کا جائزہ لینے کے بعد نئی تیار کردہ ورائٹی کو سولہ مختلف جگہوں پر تجرباتی طور پر اُگایا گیا۔”

انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد ورائٹی کو پنجاب سیڈ کارپوریشن پیروال خانیوال میں لگایا جاتا ہے جہاں سے اس کے نمونہ جات لے کر فائبر ٹیسٹنگ، جی او ٹی اور بی ٹی جین ایکسپریشن کے لیے چار لیبارٹریز میں بھیج دیا جاتا ہے۔

وی ایچ 327 کی پیداواری خصوصیات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 15-2014 میں ملکی سطح پر ہونے والے پیداواری ٹرائل میں وی ایچ 327 مقابلے میں شامل کل 24 اقسام میں سے تیسرے نمبر پر رہی تھی اور اس کی پیداوار پونے پینتیس من فی ایکڑ رہی۔

ڈاکٹر غلام سرور نے بتایا کہ سنہ 2014ء میں پنجاب سیڈ کارپوریشن پیروال میں وی ایچ 327 کی پیداوار 38 من فی ایکڑ رہی جب کہ خانیوال میں بعض جگہوں پر اس کی پیداوار 40 من فی ایکڑ بھی ریکارڈ کی گئی۔

وہاڑی کے ماہرِ کپاس ڈاکٹر غلام سرور

وہاڑی کے ماہرِ کپاس ڈاکٹر غلام سرور

وہ بتاتے ہیں کہ 16-2015 کپاس کے حوالے سے ملک سطح پر شدید بحران کا سال تھا اس سال صوبہ پنجاب کی اوسط پیداوار 12 سے 13 من فی ایکڑ رہی لیکن ملکی سطح پر وی ایچ 327 کی پیداوار 25 سے 26 من فی ایکڑ ریکارڈ کی گئی جبکہ 2016ء میں ملکی سطح کے پیداواری مقابلے میں وی ایچ 327 مقابلے میں شامل کل تریسٹھ اقسام میں سے پہلے نمبر پر رہی۔

وی ایچ 327 کی مدافعتی خصوصیات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ ورائٹی وائرس اور گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ اس کی جڑیں زمین میں کافی گہری جاتی ہیں اور تنا بھی موٹا ہے جس کے باعث فصل گرنے کا اندیشہ نہیں ہوتا اس کے علاوہ رس چوسنے والے کیڑے بالخصوص سفید مکھی، سبز تیلا اور تھرپس کا حملہ بھی کم ہوتا ہے۔

اس ورائٹی کے لیے زرعی مداخل جن میں کھاد، پانی اور زرعی ادویات شامل ہیں کم درکار ہوتے ہیں جس سے فصل پر آنے والا اخراجات کافی حد تک کم ہو جاتے ہیں اور کسانوں کو کافی بچت ہو جاتی ہے۔

وی ایچ 327 کے بیج کی مارکیٹ میں دستیابی کے بارے یں ڈاکٹر غلام سرور کا کہنا تھا کہ ان کی طرف سے بیج مکمل تیار کر کے بھجوا دیا گیا ہے اور بہت جلد حکومتی پالیسی کے مطابق کسانوں کو دستیاب ہو گا۔

پروفیسرز سیڈز وہاڑی کے ڈائریکٹر اور ماہرِ کپاس حافظ محمد زبیر امجد کا کہنا ہے کہ وی ایچ 327 اپنی مخصوص خوبیوں کی وجہ سےاچھے اور برے دونوں موسمی حالات اور اوسط درجے سے کمزور زمینوں میں بھی اعلیٰ پیداواری صلاحیت رکھتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں