کاٹن ریسرچ سنٹر وہاڑی کی زرعی خدمات

ضلع وہاڑی زراعت کےحوالے سے ملک بھر میں خاص اہمیت کا حامل ضلع گردانا جاتا ہے۔ جنوبی پنجاب کا یہ ضلع بہت سی فصلوں کی پیداوار کے لیے مشہور ہے لیکن اس علاقے کی وجہ شہرت کپاس کی فصل ہے اور اس علاقے کو “کاٹن بیلٹ” کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

صوبہ پنجاب میں کپاس کی کل پیداوار کا اسی فیصد حصہ جنوبی پنجاب کے دس اضلاع میں پیدا ہوتا ہے جن میں وہاڑی کا پانچواں نمبر ہے۔

گزشتہ برس ضلع بھر میں کپاس کی تقریباً آٹھ لاکھ گانٹھیں پیدا ہوئیں جو صوبہ کی کل پیداوار کا تقریباً دس فیصد ہیں۔

زراعت کےحوالے اس اہمیت کے پیشِ نظر وہاڑی میں زراعت کے مختلف شعبہ جات کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ علاقے کے کسانوں کی بہتری کے لیے نئی تحقیق کی جائے اور مسائل کا فوری حل تلاش کر کے زراعت میں آنے والی جدتوں کے بارے میں کسانوں کو آگاہ کیا جائے اور ان کی زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

اسی حوالے سے کپاس کی فصل پر ریسرچ کے لیے علاقے میں ایک ادارے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے سنہ 1988ء میں کاٹن ریسرچ سٹیشن وہاڑی کا قیام عمل میں لایا گیا۔

اس ادارے کے پہلے سربراہ ڈاکٹر غفور احمد خان تھے اور اس وقت ڈاکٹر غلام سرور کاٹن ریسرچ سٹیشن وہاڑی کے سربراہ کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

ادارے کا کل رقبہ اکاون ایکڑ ہے جس میں سے پانچ ایکڑ پر عمارات اور سڑکیں ہیں جبکہ چھیالیس ایکڑ رقبہ پر ریسرچ کے مقصد کے لیے فصلیں اگائی جاتی ہیں۔

ڈاکٹر غلام سرور نے ادارے کا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ یہ ادارہ ایوب ایگریلکچرل ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کا ذیلی ادارہ ہے شروع میں اسے سب سٹیشن بنانے کا فیصلہ ہوا تھا لیکن بعدازاں منظوری کے وقت اسے آزادانہ ریسرچ سٹیشن کا درجہ دے دیا گیا۔

انوں نے بتایا کہ اس ادارے کا کل رقبہ اکاون ایکڑ ہے جس میں سے پانچ ایکڑ پر عمارات اور سڑکیں ہیں جبکہ چھیالیس ایکڑ رقبہ پر ریسرچ کے مقصد کے لیے فصلیں اگائی جاتی ہیں۔

سٹاف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت کاٹن ریسرچ سٹیشن وہاڑی میں ایک کاٹن باٹنسٹ، دو اسسٹنٹ کاٹن باٹنسٹ، ایک اسسٹنٹ ریسرچ آفیسرز، دو کلرک/سٹینوگرافر، ایک فیلڈ اسسٹنٹ، ایک ڈرائیور، تین نائب قاصد اور آٹھ بیلدار کام کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کل 26 منظور شدہ آسامیاں ہیں جن میں سے سات ابھی خالی پڑی ہیں جن میں ایک اسسٹنٹ ریسرچ آفیسر، ایک کلرک، تین فیلڈ اسسٹنٹ، ایک ڈرائیور اور ایک نائب قاصد کی آسامیاں شامل ہیں۔

کاٹن ریسرچ اسٹیشن وہاڑی میں ہونے والے تحقیقاتی کاموں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہاں پر علاقے کی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے زیادہ پیداوار، گرمی کو برداشت کرنے والی، کم پانی سے تیار ہونے والی، کاٹن لیف کرل وائرس کےخلاف قوت مدافعت رکھنے والی، جلدی تیار ہونے والی اور اچھی کوالٹی کے ریشے والی خصوصیات کی حامل اقسام تیار کی جاتی ہیں۔

گرین ہاؤس کی مدد سے ورائٹی تیار کرنے اور تحقیق کے لیے سال میں کپاس کی دو فصلیں حاصل کر لی جاتی ہیں۔

گرین ہاؤس کی مدد سے ورائٹی تیار کرنے اور تحقیق کے لیے سال میں کپاس کی دو فصلیں حاصل کر لی جاتی ہیں۔

“چونکہ وہاڑی کاٹن لیف کرل وائرس کا گڑھ ہے اس لیے یہ ادارہ دوسرے اداروں کو کاٹن لیف کرل وائرس کی اسکریننگ میں مدد فراہم کرتا ہے اور آف سیزن میں گلابی سنڈی اور سفید مکھی کی مانیٹرنگ بھی کرتا ہے۔”

اس کے علاوہ اس ادارے میں مختلف یونیورسٹیز سے تحقیقی کام کے سلسلے میں طلباء انٹرن شپ پر بھی آتے ہیں اور یونیورسٹیز سے مطالعاتی ٹورز بھی آتے ہیں۔

ادارے میں اس وقت جاری منصوبوں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ 368 ملین روپے کی فنڈنگ سے سنٹر آف ایکسیلینس ان مائیکرو بائیولوجی (سی ای ایم بی) لاہور اور کاٹن ریسرچ سٹیشن وہاڑی کے اشتراک سے منصوبہ جاری ہے جس میں گلائفو سیٹ کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی کپاس کی اقسام اور بی ٹی اقسام پر کیڑے مکوڑوں کے حملے کے کنٹرول پر کام ہو رہا ہے۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ دوسرا منصوبہ پاک امریکہ کاٹن پروڈکٹویٹی انہانسمنٹ پراجیکٹ کےنام سے چل رہا ہے جس میں کاٹن لیف کرل وائرس پر تحقیق جاری ہے۔

وہ ادارے کی تحقیقی میدان میں کامیابیوں کے بارے میں بتاتے ہیں کہ اس ادارے کی تیار کردہ منظور شدہ اقسام ایف وی ایچ-53 (1998)، وی ایچ-259 (2013)، وی ایچ-305 اور وی ایچ-327 (2016) ہیں اور اس ادارے کی سفارش کردہ اقسام وی ایچ۔305 اور وی ایچ-327 شامل ہیں۔

ادارے میں ایک گرین ہاؤس بھی کام کر رہا ہے جس کے ذریعے ورائٹی تیار کرنے کے لیے درکار ٹائم کی بچت ہو جاتی ہے اور تحقیق کے لیے سال میں کپاس کی دو فصلیں حاصل کر لی جاتی ہیں۔

منظوری کے مراحل میں موجود اقسام وی ایچ گلزار، وی ایچ-189، وی ایچ-383 اور وی ایچ- 369 شامل ہیں۔

ڈاکٹر غلام سرور نے بتایا کہ ادارے میں ایک گرین ہاؤس بھی کام کر رہا ہے جس کے ذریعے ورائٹی تیار کرنے کے لیے درکار ٹائم کی بچت ہو جاتی ہے اور تحقیق کے لیے سال میں کپاس کی دو فصلیں حاصل کر لیتے ہیں مثلاُ ایک اضافی فصل ہمیں گرین ہاؤس کے ذریعے مل جاتی ہے۔

کاٹن ریسرچ سٹیشن کو درپیش مسائل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر غلام سرور نے بتایا کہ سب سے اہم مسئلہ سٹاف کی کمی ہے اور سنٹر کا سٹاف دوسرے سٹیشنز کی نسبت صرف ایک تہائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک تو سٹاف ویسے کم ہے دوسرا منظور شدہ 26 آسامیوں میں سے بھی سات خالی پڑی ہیں جس سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ریسرچ کے لیے مالی وسائل اتنے زیادہ نہیں ہیں، کل بجٹ کا صرف 25 فیصد ریسرچ کے لیے مختص ہے اور اینٹومولوجی، پلانٹ پتھالوجی اور ایگرانومی کے ماہرین کی عدم دستیابی سے بھی کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس کے علاوہ لیبارٹریز کی سہولیات جن میں بیسک مالیکولر بائیولوجی، فائبر ٹیسٹنگ، سائٹوجینٹکس، پتھالوجی اور اینٹومولوجی کی لیبارٹریز نہ ہونے سے بہت سی مشکلات درپیش آتی ہیں۔